مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 582
582 شائع کی۔ہماری طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ یا تواصل تحریر ہمیں دکھائی جائے یا اس کا عکس شائع کیا جائے ( جس طرح ہم نے کیا ہے ) تا کہ پبلک پر اصل حقیقت واضح ہو، مگر اپنی موت تک مولوی صاحب ہمارے اس مطالبہ سے عہدہ برآنہیں ہو سکے۔نیز اگر ایسی کوئی تحریر ہو بھی تو وہ قابل اعتناء نہیں اور مشتے که بعد از جنگ یاد آیڈ کی مصداق ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود کے چیلنج کے الفاظ یہ ہیں۔” پھر اس کے بعد جو میعاد خدائے تعالیٰ مقرر کرے اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں۔“ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلدا اصفحه ۳۲ حاشیہ ) پس اس عبارت کے پیش نظر سلطان محمد کی کسی ایسی تحریر کا حضرت اقدس کی زندگی میں شائع ہونا ضروری تھا۔مقدمہ دیوار میں حضرت کا بیان بعض غیر احمدی ،مولوی، حضرت مسیح موعود کے بیان مقدمہ گورداسپور متعلقہ دیوار سے یہ الفاظ پیش کر کے عوام کو مغالطہ دیا کرتے ہیں کہ حضرت نے فرمایا۔”میرے ساتھ اس کا نکاح ہوگا امید کیا مجھے یقین ہے۔“ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ یہود یا نہ تحریف سے حضرت کے درمیانی الفاظ حذف کر دیا کرتے ہیں۔اصل الفاظ یہ ہیں :۔”میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہو گا جیسا کہ پیشگوئی میں درج ہے وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی جیسا کہ پیشگوئی میں تھا۔ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا۔۔۔پیشگوئی کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے اور یہی پیشگوئی تھی کہ وہ دوسرے کے ساتھ بیاہی جاوے گی اس لڑکی کے باپ کے مرنے اور خاوند کے مرنے کی پیشگوئی شرطی تھی اور شرط تو بہ اور رجوع الی اللہ کی تھی۔لڑکی کے باپ نے تو بہ نہ کی ، اس لئے وہ بیاہ کے بعد چند مہینوں کے اندر مر گیا اور پیشگوئی کی دوسری جز پوری ہوگئی ، اس کا خوف اس کے خاندان پر پڑا اور خصوصاً شوہر پر پڑا اور جو پیشگوئی کا ایک جز تھا۔انہوں نے تو بہ کی۔چنانچہ اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے خط بھی آئے اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کو مہلت دی۔عورت اب تک زندہ ہے۔“ (الحاکم، ارا گست ۱۹۰۱ء صفحریم او ۱۵)