مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 580
580 تقدیر مبرم حضرت مسیح موعود نے انجام آتھم میں نکاح کو تقدیر مبرم قرار دیا ہے مگر حضرت مسیح موعود کی تحریرات کی رو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تقدیر بعض حالات اور شرائط کے ساتھ مشروط ہونے کی صورت میں تقدیر مبرم بنتی ہے اور جب تک وہ شرط یا شرائط پوری نہ ہوں اس وقت تک اس تقدیر کے قطعی مبرم ہونے کا تحقیق نہیں ہوتا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود آتھم کے متعلق تحریر فرماتے ہیں۔ا۔اب آتھم صاحب قسم کھالیویں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرطا نہیں اور تقدیر مبرم ہے“ ضیاءالحق ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۶) گویا آتھم کی موت تقدیر مبرم اس صورت میں ہو گی جبکہ وہ قسم کھالے گا۔قسم نہ کھانے کی صورت میں تقدیر مبرم نہ ہوگی پس جس طرح اس تقدیر مبرم کے ساتھ قسم کھانے کی شرط ہے اسی طرح محمدی بیگم کے نکاح میں سلطان محمد کی عدم توبہ کی شرط ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود کی تحریرات سے او پر ثابت کیا جا چکا ہے۔۲۔تقدیر مبرم کا دعا اور صدقہ سے ٹل جانا احادیث نبویہ سے بھی ثابت ہے چنانچہ حدیث میں ہے اَكْثَرُ مِنَ الدُّعَاءِ فَإِنَّ الدُّعَاءَ يَرُدُّ الْقَضَاءَ الْمُبْرَمَ) (كنز العمال كتاب الذكار من قسم الاقوال الباب الثامن في الدعا الفصل الأوّل نيز ديکھو جامع الصغير للسيوطى مصرى جلد اصفر ۴ ۵ باب الالف) کہ کثرت سے دعا کرو کیونکہ دعا تقدیر مبرم کو بھی ٹال دیتی ہے۔- رُوِيَ أَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُدْفِعُ الْبَلَاءَ الْمُبْرَمَ النَّازِلَ مِنَ السَّمَاءِ۔(روض الریاحین۔برحاشیہ قصص الانبیاء صفحہ ۳۶۴) کہ آنحضرت نے فرمایا کہ صدقہ بلاء مبرم کو بھی جو آسمان سے نازل ہونے والی ہو روک دیتا ہے۔الدُّعَاءُ جُندٌ مِنْ اَجْنَادِ اللهِ مُجَنَّدَةٌ يَرُدُّ الْقَضَاءَ بَعْدَ أَنْ يُبْرُمَ۔(فردوس الاخبار دیلمی صفحہ ۱۰۷ آخری سطر، وجامع الصغیر للسیوطی جلد ۲ صفحہ ۷ اباب الاول) دعا خدا تعالیٰ کے لشکروں میں سے ایک لشکر جرار ہے جو قضاء کو اس کے مبرم ہونے کے بعد بھی ٹلا دیتی ہے۔