مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 19
19 چونکہ انسان اپنا خالق نہیں اس لئے اپنے وجود کے اجزاء اور دنیا کی اشیاء کی ماہیت کامل طور پر نہیں جانتا۔اس لئے عالم الغیب بھی نہیں لیکن اگر کوئی ایسی ہستی ہو جو آئندہ کے تمام حالات جانتی ہو تو یقیناً وہ خالق دنیا ( خدا ) ہوگی۔خدا تعالیٰ اپنے انبیاء کو دنیا میں بھیجتا ہے ( جو بوجہ انسان ہونے کے بذات خود غیب نہیں جانتے مگر خدا تعالیٰ اُن پر آئندہ کی خبریں کھولتا ہے فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ (الجن : ۲۸،۲۷) اور اس طریق سے اپنی ہستی کا ثبوت دیتا ہے۔دیکھو آنحضرت عمہ کو آج سے ساڑھے تیرہ سو سال قبل بتایا تھا کہ فَالْيَوْمَ نُنَجِيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً (يونس: ۹۳) کہ فرعون کے ساتھ جب وہ ڈوب رہا تھا خدا نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اس کا جسم محفوظ رہے گا۔تو رات نے صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ فرعون مع اپنے رتھ کے سمندر میں پتھر کی طرح غرق ہو گیا لیکن قرآن نے بتایا کہ اس کی لاش محفوظ ہے۔چنانچہ ہمارے زمانہ میں اس کا محفوظ جسم برآمد ہونا قرآن کی صداقت اور خدا تعالیٰ کی ہستی پر زبردست دلیل ہے۔اسی طرح چاند ، سورج کو رمضان کے مہینہ میں ۱۳ را اور ۲۸ تاریخ کو گرہن لگنا اور اس کا امام مہدی کی صداقت پر گواہ ہونا اور پھر اس نشان کا حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کے زمانہ ۱۸۹۴ء میں بعینہ پورا ہو جانا خدا کی ہستی اور آنحضرت کی صداقت پر بُرہان قاطع ہے۔(سنن دار قطنی جلد دوم باب صفة صلواة الخسوف والكسوف وَهَيئتُهما صفحه ۱۸۸مطبع انصاری دهلی (۱۳۱۰ھ)