مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 18 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 18

18 ہونا ضروری ہوتا ہے۔سو اگر عدم سے وجود میں آنے کا فاعل دنیا ہے تو اس کے یہ معنے ہوئے کہ دنیا اپنے خود بخود بننے سے پہلے موجود تھی جو بالبداہت باطل ہے۔رہی دوسری بات کہ کسی نے بنائی ہے تو یہی درست ہے اور اس بنانے والے کو ہم خدا کہتے ہیں۔چودھویں دلیل: دہر یوں کا یہ دعوئی کہ ہم خود بخود ہیں ترجیح بلا مرتج ہے۔اگر وہ کہیں کہ ہم خود مریخ ہیں تو یہ بات غلط ہے کیونکہ مرج ترجیح سے پہلے ہوتا ہے۔اگر یہی بات ہے تو عدم سے وجود میں آنا کیسا؟ اور جب ہم نہ ہوئے تو کوئی اور مرچ ہوگا۔پس اسی کو ہم خدا کہتے ہیں۔پندرھویں دلیل: دنیا قدیم ہے یا حادث۔اگر کہو قدیم ہے تو یہ بات غلط ہے۔کیونکہ قدیم وہ ہوسکتی ہے جو کسی کی محتاج نہ ہو اور دنیا کی ہر چیز دوسری کی محتاج ہے۔مثلاً بارش نہ ہو تو زمین اکیلی کچھ نہیں اگا سکتی۔پس ثابت ہوا کہ دنیا قدیم نہیں۔جب قدیم نہ ہوئی تو حادث ٹھہری اور حادث کا کوئی محد ث چاہیے۔سو وہی خدا ہے۔سولہویں دلیل: دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی مصنوع بغیر صانع کے نہیں۔جو چیز بھی لو فطرت خود گواہی دے گی کہ ضرور بضر ور کوئی نہ کوئی اس کا پیدا کرنے والا ہے۔سواتنے بڑے عالم کو کہہ دینا کہ یہ خود بخود ہے درست نہیں۔سترھویں دلیل (از خادم): ہمارا روز مرہ کا تجربہ ہے کہ انسان کسی چیز کے اجزاء اور مرکبات سے جتنا واقف ہو اس چیز کے مستقبل کے متعلق بھی اتنا ہی اس کو علم ہوتا ہے۔مثلاً ایک گھڑی ساز ایک گھڑی بناتا ہے۔وہ چونکہ اس کے اجزاء اور مرکبات سے واقف ہے اس لئے وہ بتا سکتا ہے کہ وہ گھڑی کتنا عرصہ کام دے گی مگر