مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 521
521 یاد رکھنا چاہیکہ حضرت بو یزید رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت اس قدر بلند ہے کہ حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کا اقرار فرمایا ہے۔چنانچہ حضرت داتا صاحب رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:۔معرفت کا آسمان اور محبت کی کشتی ابو یزید طیفور بن بن علی بسطامی رحمۃ اللہ علیہ یہ بہت بڑے مشائخ میں سے ہوا ہے اور اس کا حال سب سے بڑا اور اس کی شان بہت بڑی ہے اس حد تک کہ جنید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ :۔ابُو يَزِيدَ مِنَّا بِمَنْزِلَةِ جِبْرِيلَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يعنى ابويزيد ہمارے درمیان ایسا ہے جیسا کہ جبرائیل فرشتوں میں اور تصوف کے دس اماموں میں سے ایک یہ ہوئے ہیں اور اس سے پہلے علم تصوف کی حقیقتوں میں کسی کو اس قدر علم نہ تھا جیسا کہ اس کو تھا اور ہر حال میں علم کا محب اور شریعت کا تعظیم کنندہ تھا۔“ (کشف الحجاب مترجم اردو صحه ۱۳۲ ذکر امام مشائخ تبع تابعین) ۵۔حضرت شیخ فریدالدین عطار رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب تذکرۃ الاولیاء میں حضرت رابعہ بصری کی نسبت تحریر فرماتے ہیں :۔ایک دوسری مرتبہ آپ ( حضرت رابعہ بصریؒ) حج کو جارہی تھیں۔جنگل میں کیا دیکھتی ہیں کہ کعبہ مکرمہ آپ کے استقبال کو آرہا ہے۔حضرت رابعہ بصریؒ نے کہا۔”مجھ کو مکان کی ضرورت نہیں صاحب مکان درکار ہے۔کعبہ کے جمال کو دیکھ کر کیا کروں گی۔“ (تذکرۃ الاولیاء اردو نواں باب صفحه ۴ ۵ مطبوعه علمی پریس ) ۶۔حضرت عطار رحمتہ اللہ حضرت شبلی کی نسبت تحریر فرماتے ہیں :۔ایک دفعہ آگ لے کر کعبہ کی طرف چلے اور کہنے لگے۔میں جا کر خانہ کعبہ کو جلاتا ہوتا کہ لوگ خداوند کعبہ کی طرف متوجہ ہوں۔( تذکرۃ الاولیاء چو دھواں باب صفحہ ۱۲۲) ۷۔حضرت ابوالقاسم نصیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت لکھا ہے:۔ایک دفعہ مکہ میں لوگ طواف کر رہے تھے اور آپس میں باتیں بھی کر رہے تھے۔آپ اسی وقت باہر جا کر لکڑیاں اور آگ لے آئے۔لوگوں نے پوچھا۔یہ کیا حرکت ہے ؟ آگ اور لکڑیوں کا یہاں کیا کام؟ فرمایا کہ کعبہ کو جلا دوں گا تا کہ سب غافل لوگ خدا کی طرف رجوع کرلیں۔“ (تذکرۃ الاولیاء ترجمہ اردو باب ۹۴ صفحه ۳۱۸)