مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 519
519 يَحْمَدُكَ فِيهِ الْخَلَائِقُ كُلُّهُمْ وَخَالِقُهُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَی“ (تفسیر ابن کثیر زیر آیت عَسَى أَنْ يُبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا۔اسراء: (۷۹) که يَبْعَثُكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے۔یہ جو میں نے تجھے حکم دیا اس کو بجالا۔تا کہ میں تجھ کو قیامت کے دن مقام محمود پر کھڑا کروں۔تمام دنیا تیری حمد کرے گی اور خالق کون و مکان ( خدا تعالیٰ ) بھی تیری حمد کرے گا۔۴۔حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔فَيَحْمَدُنِي وَاَحْمَدُهُ وَيَعْبُدُنِي وَاعْبُدُهُ كہ اللہ تعالیٰ میری حمد کرتا ہے اور میں اس کی حمد کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ میری عبادت کرتا ہے اور میں اس کی عبادت کرتا ہوں۔حضرت امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ مندرجہ بالا ارشاد کی حسب ذیل تشریح فرماتے ہیں۔إِنَّ مَعْنَى يَحْمَدُنِي أَنَّهُ يَشْكُرُنِى إِذَا أَطَعْتُهُ كَمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فَاذْكُرُونِي اَذْكُرُكُمْ وَأَمَّا فِى قَوْلِهِ فَيَعْبُدُنِي وَاعْبُدُهُ أَى يُطِيْعُنِي بِإِجَابَتِهِ دُعَائِي كَمَا قَالَ تَعَالَى 66 لَا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ اَنْ لَا تُطِيعُوهُ وَ إِلَّا فَلَيْسَ اَحَدٌ يَعْبُدُ الشَّيْطَانَ كَمَا يَعْبُدُ اللَّهَ۔(اليواقيت و الجواهر الفصل الثاني في تاويل كلمات اظيفت الى الشيخ محي الدين ) یعنی حضرت امام ابن عربی کا یہ فرمانا کہ اللہ میری حمد کرتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ میری اطاعت و فرمانبرداری کا شکریہ ادا کرتا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے کہ تم مجھے یاد کرو میں تم کو یاد کروں گا اور شیخ رحمتہ اللہ علیہ نے جو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ میری عبادت کرتا ہے اور میں اس کی عبادت کرتا ہوں۔تو اس جگہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دعائیں قبول فرما کر میری بات مانتا (میری اطاعت کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان کی عبادت نہ کرو۔یعنی شیطان کا کہا نہ مانو۔ورنہ دنیا میں کوئی بھی ایسا انسان نہیں ہے جو شیطان کی اس رنگ میں عبادت کرتا ہو جس رنگ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے۔پس عبارت بالا میں لفظ ”حمد بعینہ اسی طرح استعمال ہوا ہے جس طرح حضرت محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی مندرجہ بالا عبارت میں۔۴۔قرآن مجید میں ہے:۔وَيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُ وَ بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا (ال عمران : ۱۸۹) کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی بغیر کسی کام کرنے کے ہی تعریف کی جائے۔علی ہذا القیاس متعدد مثالیں ہیں جن کو بخوف تطویل درج نہیں کیا گیا۔