مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 456 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 456

456 ایک سخت زلزلہ آئے گا اور زمین کو یعنی زمین کے بعض حصوں کو زیر وزبر کر دے گا جیسا کہ الوصیت روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۴) لوط کے زمانہ میں ہوا۔“ مندرجہ بالا الہامات اور رویا اور عبارات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ (۱) کانگڑے والے زلزلے سے زیادہ شدید زلزلہ آئیگا (۲) زلزلہ ہندوستان کے شمال مشرق میں آئیگا (۳) وہ زلزلہ بہار کے دنوں میں جو جنوری سے شروع ہوتے ہیں آئیگا (۴) جنوری کے مہینہ میں خوف کے ایام شروع ہونگے (۵) وہ زلزلہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے کی زندگی میں آئیگا (۶) صاحبزادہ صاحب موصوف سب سے پہلے شخص ہونگے جو اس پیشگوئی کے پورا ہونے کی طرف متوجہ ہو کر دوسروں کو توجہ دلائیں گے ( ۷ ) وہ زلزلہ نادرشاہ کے قتل کے بعد جو پہلی بہار آئے گی اس میں آئیگا۔چنانچہ جیسا کہ یہاں ہوا۔نادر شاہ ۸ / نومبر ۱۹۳۳ء کو قتل ہوا۔اور اس کے بعد جو پہلی بہار آئی یعنی جنوری ۱۹۳۴ء میں شمال مشرقی ہندوستان میں قیامت خیز زلزلہ آیا جو زلزلہ بہار کے نام سے مشہور ہے وہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی زندگی میں آیا اور آپ ہی نے سب سے پہلے اس طرف توجہ دلائی اور ایک ٹریکٹ ایک اور نشان“ کے عنوان سے شائع کیا۔اس پیشگوئی میں ایک لطیف امر قابل غور یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کے متعلق الہام ہوا کہ رَبِّ لَا تَرِنِي زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ رَبِّ لَا تَرِنِى مَوْتَ اَحَدٍ مِنْهُمُ کہ اے میرے رب ! مجھ کو وہ قیامت خیز زلزلہ نہ دکھانا۔اے میرے رب! مجھے میری جماعت میں سے ایک آدمی کی موت نہ دکھانا۔چنانچہ یہ زلزلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں نہیں آیا۔جیسا کہ حضرت کا الہام تھا اخَّرَهُ اللَّهُ إِلَى وَقْتِ مُسَمًّى۔اس میں تا خیر ڈال دی (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۳ حاشیہ ) اور پھر اس زلزلہ میں صرف ایک احمدی فوت ہوا۔۹۔پنڈت دیانند کے متعلق فرمایا ہے کہ انکی زندگی کا خاتمہ ہوگیا ہے۔اس الہام کا گواہ لالہ شرم پت ساکن قادیان ہے جس کو حضرت اقدس نے قبل از وقوع یہ بات بتائی تھی۔سو وہ اسی سال مر گیا۔۱۰۔اپنی کتاب انوار الاسلام میں سعد اللہ لدھیانوی کے اعتراض کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہونے کی پیشگوئی کی جس کا حلیہ بھی بیان فرمایا۔خصوصا یہ کہ اس کے جسم پر پھوڑے ہیں۔(دیکھو انوار الاسلام صفحہ ۶۶ حاشیه مطبوعہ نمبر ۱۸۹۴ء) چنانچہ اس کے قریبا پانچ سال بعد حضرت خلیفہ اول کے گھر عبدالحی پیدا ہوا جس