مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 437 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 437

437 كَانَ يَكُونُ مُضِلَّا لِكُلِّ ذِى عَقْلٍ۔“ 66 کہ مدعی الوہیت کا دعویٰ ہی خود اس کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے لہذا اس سے کسی نشان کا ظہور کسی صاحب عقل کو گمراہ نہیں کر سکتا۔مگر کا ذب مدعی نبوت سے نشان ظاہر نہیں ہو سکتے۔کیونکہ وہ ہر صاحب عقل کو گمراہ کرنے کا باعث ہوگا۔ب۔یہی فرق نبر اس شرح الشرح العقائد نسفی صفحه ۴۴۴ بحث الخوارق“ میں مذکور ہے نیز تفسیر کبیر امام رازی جلد ۸ صفحه ۲۹۔حوالہ مندرجہ پاکٹ بک ہذا صفحہ ۴۲۷۔ا۔ابو منصور جواب ا: وہ مدعی نبوت نہ تھا۔چنانچہ ” منهاج السنہ “ میں بھی جس کا حوالہ غیر احمدی دیا کرتے ہیں ، اس کا دعوی نبوت مذکور نہیں۔۲۔علامہ ابو منصور البغدادی لکھتے ہیں:۔وَادَّعَى هَذَا الْعَجُلِيُّ أَنَّهُ خَلِيفَةَ الْبَاقِرِ وَقَفَ يُوسُفُ بُنُ عُمَرَ التَّقْفِيُّ وَآتَى الْعِرَاقِ۔۔۔فَاَخَذَ أَبَا مَنْصُورَ الْعَجَلِي وَصَلَبَهُ۔(الفرق بين الفرق الفصل الخامس صفحہ ۱۴۹ میر محمد کتب خانہ آرام باغ کراچی ) کہ ابو منصور عجلی نے یہ دعوی کیا تھا کہ وہ باقر کا خلیفہ ہے۔پس جب یوسف ابن عمر النفی کو اس بات کا علم ہوا تو وہ عراق آیا اور ابو منصور کو پکڑ کر صلیب دے دی۔۔اس کا ۲۷ سال بعد دعوی زندہ رہنا شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کتاب ”منہاج السنیہ میں ( جس کا غیر احمدی حوالہ دیا کرتے ہیں ) قطعاً نہیں لکھا۔۴۔غیر احمدی اس کا سن قتل ۳۶۸ ھ بتایا کرتے ہیں حالانکہ یہ قطعاً غلط ہے کیونکہ جیسا کہ او پر مذکور ہوا اس کا قاتل یوسف بن عمر اشتفی ہے اور وہ خود ۱۲۷ھ میں مرا جیسا کہ علامہ ابن خلکان کی کتاب ”وفیات الاعیان جلد ۲ ذکر یوسف بن عمر اشتقی مطبوعہ دارصا در بیروت پر لکھا ہے:۔وَذَالِكَ فِي سَنَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَةٌ کہ یوسف بن عمر اشتفی کی موت ۱۲۷ھ میں ہوئی جبکہ وہ ۶۵ سال کی عمر کا تھا۔اب قاتل تو ۱۲۷ھ میں مرگیا اور مقتول بقول غیر احمدیان ۳۶۸ ھ میں مرا۔العجب۔