مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 438 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 438

438 ۲ محمد بن تو مرت جواب: ا۔اس کا دعویٰ نبوت کہیں بھی مذکور نہیں۔۲۔ہاں اس نے حکومت وقت کے خلاف بغاوت ضرور کی اور ۱۴ھ میں شاہ مراکش نے اسے دارالسلطنت سے نکال دیا اور وہ جیل سوس میں جا کر بغاوت کرتا رہا۔۔اس نے خود دعوی مہدویت بھی نہیں کیا۔فَقَامَ لَهُ عَشْرَةُ رِجَالِ اَحَدُهُمُ عَبْدُ الْمُؤْمِنِ فَقَالُوا لَا يُوجَدُ إِلَّا فِيْكَ فَانْتَ الْمَهْدِيُّ ( کامل فی التاریخ لا بن الاثیر جلد، صفحه ۵۷۱ مطبوعہ دار بیروت للطباعة والنشر ۱۹۶۶ء) کہ اس کے دس ساتھی ہو گئے جن میں سے ایک عبدالمومن تھا۔انہوں نے اسے کہا کہ تیرے سوا مہدی کی صفات اور کسی میں پائی نہیں جاتیں لہذا تو ہی مہدی ہے۔۴۔اگر اس کا دعویٰ مہدویت ثابت بھی ہو جائے تب بھی وہ لو تَقَوَّل والی آیت کے نیچے نہیں آ سکتا جب تک کہ جھوٹے الہام یا وحی کا مدعی نہ ہو۔۳۔عبد المومن جواب :۔یہ محمد بن تو مرت کا خلیفہ تھا۔یہ بھی اس کے ماتحت آ جاتا ہے۔۴۔صالح بن طریف جواب:۔ا۔اس نے اپنا کوئی الہام پیش نہیں کیا۔لہذا تقول نہ ہوا۔۲۔اس نے خیال کیا تھا کہ وہ خود مہدی ہے۔ثُمَّ زَعَمَ أَنَّهُ الْمَهْدِيُّ الَّذِي يَخْرُجُ فِي اخِرِ الزَّمَانِ۔(مقدمہ ابن خلدون جلد 4 صفحہ ۲۰۷) یعنی اس نے خیال کیا کہ وہ مہدی جو آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ میں ہوں۔مگر اس نے کبھی کوئی الہام پیش نہیں کیا۔۳۔اس نے اپنے دعوئی مہدویت کا بھی اعلان کبھی نہیں کیا۔وَأَوْصَى بِدِينِهِ إِلَى ابْنِهِ إِلْيَاسَ وَعَهِدَ إِلَيْهِ بِمَوَالَاةِ صَاحِبِ الْأنْدُلُسِ مِنْ بَنِى أُمَيَّةٍ وَ بِإِظْهَارِ دِينِهِ إِذَا قَوَى أَمْرُهُمْ وَقَامَ بِأَمْرِهِ بَعْدَهُ اِبْنُهُ إِلْيَاسُ وَلَمْ يَزَلْ مُظْهِرًا لِلإِسْلَامِ مُسِرًّا لِمَا أَوْصَاهُ بِهِ أَبُوهُ (ابن خلدون جلد ۶ صفحه ۲۰۷) کہ اس نے اپنے بیٹے الیاس کو وصیت کی کہ وہ اس کے مذہب پر قائم رہے اور اس سے عہد لیا کہ وہ حاکم اندلس کے ساتھ دوستی رکھے گا اور اپنے مذہب کا اظہار صرف اس وقت کرے گا جب وہ طاقتور ہو جائے۔پس وہ اپنے باپ کے حکم پر قائم رہا اور یہی ظاہر کرتا رہا کہ وہ مسلمان ہے اور اپنا