مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 394 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 394

394 بعد صاحب شریعت کوئی نبی نہ ہوگا۔۔لغت کی کتاب تکملہ مجمع البحار الانوار میں اس کے مصنف امام محمد طاہر فرماتے ہیں:۔وَهذَا أَيْضًا لَا يُنَافِي حَدِيثَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي لَا نَّهُ أَرَادَ لَا نَبِيَّ يَنْسَخُ شَرُعَهُ تکملہ مجمع البحار الانوار صفحه ۸۵ مطبوعه مطبع نول کشور آ گره) کہ حضرت عائشہؓ کا قول قُولُوا اَنَّهُ خَاتَمُهُ الْاَنْبِيَاءِ وَلَا تَقُولُوا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ ( در منشور جلده صفحه ۲۰۴ تکمله مجمع الجار الانوار صحه ۸۵) کہ یہ تو کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں مگر یہ کبھی نہ کہنا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِی کے مخالف نہیں ہے کیونکہ لَا نَبِيَّ بَعْدِی سے مراد تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے۔۴۔نواب نور الحسن خان صاحب لکھتے ہیں :۔حديث لَا وَحْيَ بَعْدَ مَوْتِی بے اصل ہے۔ہاں لَا نَبِيَّ بَعْدِی “ آیا ہے جس کے معنے نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی شرع ناسخ نہ لاوے گا۔“ (اقتراب الساعته از نواب نورالحسن خان صفحه ۶۲ مطبع مفید عام الکائنہ فی آگرہ ۱۳۰۱ھ ) دوسری حدیث : لَوْ كَانَ بَعْدِى نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرُ ( ترمذى كتاب المناقب، باب مناقب عمر و مشكواة كتاب المناقب باب مناقب عمر ( کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہونا ہوتا تو حضرت عمر ہوتے۔الجواب:۔(۱) ترمندی اور مشکوۃ دونوں میں یہ حدیث موجود ہے۔مگر دونوں میں اس کے آگے ہی لکھا ہوا ہے۔هَذَا حَدِيثُ غَرِيبٌ “ ( ترمذی حوالہ مذکورہ بالا و مشکواة کتاب المناقب باب مناقب عمر ) کہ یہ حدیث غریب ہے اور حدیث غریب جس کا ایک ہی راوی ہوتا ہے ہو قابل استناد نہیں ہوتی۔صرف ایک گواہ کے کہنے سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا تھا یہ بات ثابت نہیں ہو سکتی کہ فی الواقع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا تھا۔غیر احمدی: ” کیا غریب حدیث ضعیف یا غلط ہوتی ہے۔ہرگز نہیں صحیح ہوتی ہے“ محمدیہ پاکٹ بک صفحه ۳۱۹ با اول یکم مارچ ۱۹۵۰)