مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 395
395 جواب:۔امام ترمذی نے اس روایت کو غریب اس لئے کہا ہے کہ اس کا صرف ایک ہی راوی مشرح بن ھامان کے طریقہ سے مروی ہے مشرح بن ھا عان کے متعلق لکھا ہے:۔قَالَ ابْنُ حَبَّانَ فِي الضُّعَفَاءِ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا فَالصَّوَابِ تَرْكُ مَا انْفَرَدَبِهِ قَالَ ابْنُ دَاوُدَ إِنَّهُ كَانَ فِي جَيْشِ الْحُجَّاجَ الَّذِيْنَ حَاصَرُوا ابْنَ الزَّبَيْرِ وَ رَمُو الْكَعْبَةَ بِالْمَنْجَنِيقِ - (تهذيب التهذیب جلده از پر لفظ مشرح بنهاعان وميزان الاعتدال جلد ۳ زیر لفظ مشرح بن هاعان) یعنی مشرح بن ھا ان کو ابن حبان نے ضیعف قرار دیا ہے اس کی روایات کا اعتبار نہیں کیا جاتا اور صحیح بات یہ ہے کہ جس روایت کا یہ اکیلا ہی راوی ہو وہ روایت درست تسلیم نہ کی جائے بلکہ ترک کر دی جائے ابن داؤد کہتے ہیں کہ یہ راوی حجاج کے اس لشکر میں شامل تھا جنہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر کا محاصرہ کیا اور گھمانیوں سے کعبہ پر پتھر برسائے تھے۔پس یہ روایت اس شخص کی ہے جس نے کعبہ پر سنگ باری کی اور پھر وہ اس روایت میں منفرد ہے اور اس امر پر محدثین کا اتفاق ہے کہ مشرح بن ہاعان کی ایسی روایت جس میں وہ منفرد ہو۔قابل قبول نہیں ہوتی۔ترمذی نے یہ حدیث نقل کر کے لکھدیا ہے کہ روایت لکان عبر “ میں مشرح بن ها عان منفرد ہے لہذا یہ حدیث صرف غریب ہی نہیں بلکہ ضعیف بھی ہے۔ب:۔مشرح بن ھاعان کے متعلق امام شوکانی لکھتے ہیں کہ وہ ”متروک“ ہے۔فِی اَسْنَادِهِ مَتْرُوكَان هُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقِدٍ وَ مِشْرَحُ بُنُ هَاعَانٍ - (الفوائد المجموعه في الاحاديث الموضوعه مطبوعہ محمدی پریس لاہور صفحہ ۱۳ اسطرا ) ج:۔چنانچہ حضرت امام سیوطی نے اپنی کتاب جامع الصغیر میں اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔ملاحظہ ہو جامع الصغیر مصری باب السلام جلد ۲ صفحہ ۳ے جہاں پر یہ روایت نقل کر کے آگے (ض) کا نشان دیا ہے، جس کے معنی ہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے۔اسی طرح اس حدیث کا ایک اور راوی بکر بن عمر والمعافری بھی ہے اس کے متعلق (تھذیب التهذيب زير لفظ بكر بن عمرو المعافری میں لکھا ہے کہ قَالَ أَبُو عَبْدِ الْحَاكَمِ يُنْظُرُ فِي أَمْرِهِ کہ اس روایت کو مشوک سمجھا جاتا ہے۔پس یہ روایت ہی ضعیف اور نا قابل حجت ہے۔غیراحمدی:۔حضرت مرزا صاحب نے ازالہ اوہام صفحہ ۹۸ پر یہ روایت لکھی ہے۔