مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 372 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 372

372 شروع ہوئی اور یزید بن معاویہ پر ختم ہوئی۔کیا عربی کے اس مقولہ کا مطلب یہ ہے کہ یزید کے بعد کوئی شاعر نہیں ہوا ؟ نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ یزید اپنے زمانہ کا بہترین شاعر تھا۔۲۔اسی طرح وفیات الاعیان لابی العباس شمس الدین احمد بن محمد بن ابی بکر لابن خلقان جلد۲ صفحہ اے میں ابوالعباس محمد بن یزید المعروف بالمبر دنحوی کے ذکر میں لکھا ہے۔وَكَانَ الْمُبَرَّدُ الْمَذْكُورُ وَاَبُو الْعَبَّاسِ اَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْمُلَقَّبُ بِتَعْلَبِ صَاحِبَ كِتَابَ الْفَصِيحِ عَالَمِيْنَ مُتَعَارِضِينَ قَدْ خُتِمَ بِهِمَا تَارِيخُ الْأَدَبَاءِ۔“ که مبر داور ابو العباس ثعلب مصنف کتاب الفصیح۔دونوں بڑے عالم تھے اور ان دونوں کے ساتھ ادیبوں کی تاریخ ختم ہوئی۔اب کیا ادباء کی تاریخ کے ختم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مبر داور اتعاب کے بعد کوئی ادیب نہیں ہوا۔نہیں۔ہر گز نہیں مراد صرف یہ ہے کہ یہ دونوں اپنے زمانہ کے بہترین ادیب تھے۔لفظ ختم “ اور قرآن مجید بعض مخالفین کہا کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں لفظ ختم “ بند کرنے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ آیت اليَوْمَ نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ (يس:۶۶) میں کہ قیامت کے دن دوزخیوں کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے یعنی قیامت کے روز دوزخی منہ سے بات نہ کر سکیں گے۔پس ثابت ہوا کہ ختم یعنی مہر سے مراد بند کرنا ہے۔الجواب:۔اس کا جواب یہ ہے کہ گو لفظ ختم اور اس کے مشتقات کے متعلق بحث نہیں بلکہ بحث خاص طور پر لفظ خاتم بفتحه تاء کے صیغہ جمع کی طرف مضاف ہونے کی صورت میں آخری یا افضل کے معنوں میں ہونے کی ہے لیکن آیت مذکورہ بالا سے بھی ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ نَخْتِم سے مراد مطلق بند کرنا ہے کیونکہ آیت محولہ کا مطلب یہ نہیں کہ قیامت کے دن دوزخی زبان سے بات ہی نہیں کر سکیں گے بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسانی جسم میں زبان کو جو حیثیت حاصل ہے وہ تمام اعضاء اور جوارح کی نمائندہ ہونے کی ہے یعنی اگر کوئی تکلیف انسان کے سر میں ہو تو اس کا اظہار بھی زبان کرتی ہے اور اگر ہاتھ یا پاؤں میں کوئی خرابی ہو تو وہ بھی زبان ہی بتاتی ہے تو بظاہر خیال ہو سکتا تھا کہ ممکن ہے قیامت کے دن بھی صرف زبان ہی اپنے علاوہ دوسرے اعضاء کے گناہ بیان کر دے گی۔