مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 371 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 371

371 کہ آنحضرت صلعم نبوت کی مالا ہیں۔آپ نبیوں کا تاج اور ان کی انگوٹھی (خاتم) ہیں۔نہیں(صرف نبیوں ہی کے نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ) خدا کے تمام بندوں کے لئے زینت ہیں۔اس شعر میں طوق (مالا) تاج اور خاتم (انگوٹھی ) تینوں زینت کے معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔چنانچہ لفظ ” بل“ کے ساتھ زینت کا لفظ خود پکار پکار کر کہہ رہا ہے اس شعر میں لفظ خاتم“ آخری کے معنے میں نہیں بلکہ زینت کے معنی میں آتا ہے۔نیز چونکہ انگوٹھی انکی کو گھیر لیتی ہے۔اس لئے اس 66 لحاظ سے خاتم النبین کے معنی ہوں گے کہ تمام انبیاء کے کمالات کو اپنے اندر جمع کر لینے والا۔۳- تذکرة الاولیاء مصنفہ جناب شیخ فرید الدین عطار فارسی صفحہ ۲۷۲ میں لکھا ہے۔مجذوب کے بہت سے درجہ ہیں۔ان میں سے بعض کو نبوت کا تہائی حصہ ملتا ہے اور بعض کو نصف اور بعض کو نصف سے زیادہ یہاں تک کہ بعض مجذوب ایسے ہوتے ہیں۔جن کا حصہ نبوت میں سے تمام مجذوبوں سے زیادہ ہوتا ہے اور وہ خاتم الاولیاء ہوتا ہے۔جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور یہ مجذوب ممکن ہیں کہ امام مہدی ہوں۔“ ( تذکرۃ الاولیاء باب ۵۸ حضرت حکیم محمدعلی الترندی وارد وترجمه ظهیرالاصفیاء از مولانا سید اعجاز احمد مطبع شدہ اسلامیہ ٹیم پریس لاہور ) نوٹ:۔مندرجہ بالا اردو ترجمہ انوار الاز کیاء وترجمہ اردو تذکرۃ الاولیاء مطبع مجیدی کانپور کے صفحہ ۵۳۷ سے لیا گیا ہے۔لفظ ختم اور محاورہ اہل عرب لفظ خاتم کا صیغہ جمع پر مضاف ہو کر افضل“ ہونے کے معنوں میں ہونا بدلائل ثابت کیا جا چکا ہے۔اب بعض مثالیں لفظ ختم کے فعل استعمال ہونے کی صورت میں محاورہ اہل زبان سے پیش کی جاتی ہیں کیونکہ بعض دفعہ بعض لوگ خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ“ کی حدیث بھی پیش کر دیا کرتے ہیں اور اس کا جواب پہلے گزر چکا ہے۔ا۔یزید بن معاویہ کے متعلق لکھا ہے :۔"كَانَ فَصِيحًا كَرِيمًا شَاهِدًا مُفْلِقًا قَالُوا بُدِئَ الشِّعْرُ بِمَلِكِ وَ خُتِمَ بِمَلِكِ إِلَى امْرَءِ الْقَيْسِ وَإِلَيْهِ۔كتاب الفخرى لابن طقطقى باب الدولة الاموية ذكر يزيد) که یزید بہت فصیح شاعر تھا اور نہایت اچھے شعر کہتا تھا۔مشہور مقولہ ہے کہ شعر ایک بادشاہ سے شروع ہوا اور بادشاہ پر ختم ہوا۔اس سے مراد امراء القیس اور یزید ہیں۔یعنی امراء القیس سے شاعری