مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 373 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 373

373 تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اس دن ہر عضو اپنے گناہ خود بھی بیان کرے گا۔ہاتھ اپنے گناہ بیان کریں گے ، پاؤں اپنی بدیاں گنائیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ بدزبانی ، غیبت اور جھوٹ وغیرہ گناہ جن کا ارتکاب خود زبان سے ہوا ہوگا۔وہ کون بیان کرے گا؟ کیا ہاتھ بتائیں گے یا پاؤں؟ ظاہر ہے کہ زبان کے اپنے گناہ خود زبان ہی بتائے گی۔پس قیامت کے دن دوزخی کا منہ بند ہونا تو ثابت نہ ہوا۔بلکہ دوزخی کا بولنا اور اس کے منہ کا کھلا رہنا ثابت ہو۔اگر کہو کہ تمہارا یہ استدلال محض قیاسی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ استدلال قیاسی نہیں بلکہ خود قرآن مجید میں ہی موجود ہے کہ قیامت کے دن دوزخیوں کی زبان بند نہیں ہوگی۔بلکہ وہ باتیں کریں گے۔چنانچہ سورۃ نور رکوع ۳ میں ہے يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔(النور: ۲۵) یعنی قیامت کے دن ان کی زبانیں ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ان اعمال کی جو وہ کیا کرتے تھے۔پس صاف طور پر ثابت ہوا کہ قیامت کے دن با وجود منہ پر مہر لگ جانے کے دوزخی باتیں کریں گے۔چنانچہ ایک دوسری جگہ بھی ہے کہ جب جسم اور ہاتھ اور پاؤں دوزخیوں کے خلاف گواہی دیں گے تو لکھا ہے۔وَقَالُو الِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدتُّمْ عَلَيْنَا (حم سجدہ (۲۳) وہ اپنے جسموں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی ؟ گویا ان کی زبان بند نہ ہوگی۔پس الْيَوْمَ نَخْتِمُ “ والی آیت میں ختم“ کے معنی ہرگز بکلی بند کرنے کے نہیں ہیں۔ہمارے نزدیک اس کے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زبان پر تصدیق اور سچائی کی مہر لگا دے گا۔پس وہ سچ سچ سب کچھ بیان کر دے گی اور جو کچھ وہ اپنے خلاف کہے گی اس کے لئے تو کسی مزید تائید اور شہادت کی ضرورت نہ ہوگی لیکن جو کچھ وہ دوسرے اعضاء کے خلاف کہے گی اس کی تصدیق کرنے کے لئے ہر ایک عضو اپنے اپنے کردہ گناہوں کا اقبال کر لے گا۔اس طرح سے الہی مہر کی تصدیق ہو جائے گی۔ان معنوں کی تائید مندرجہ ذیل احادیث سے بھی ہوتی ہے۔