مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 291
291 اور کوئی چیز بھی نہیں مگر ہمارے پاس اس کے خزانے ہیں اور نہیں اتارتے ہم اس کو مگر ایک مقررہ اندازہ پر۔ه قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا (الاعراف: ۲۷) ہم نے لباس نازل کیا۔لفظ نُزُول اور احادیث ۱۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ (كنز العمال صفر ۳۹۲ حدیث ۱۳۳۸۳) آنحضرت ایک درخت کے نیچے اترے۔۲ - كَانَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا فِي سَفَرٍ لَمْ يَرْتَحِلُ حَتَّى يُصَلِّى فِيْهِ رَكْعَتَيْنِ (کنز العمال جلد۷صفحہ ۳۸ کتاب شمائل من قسم الاقوال باب آداب السفر حدیث نمبر ۱۸۱۵۳) آنحضرت سفر میں مقام کرنے کے بعد دو رکعتیں پڑھ کے کوچ کرتے تھے۔-٣- لَمَّا نَزَلَ الْحَجَرَ فتح الباری شرح بخاری جلد ٨ كتاب المغازى باب نزول النبي الحجر ) جب آنحضرت حجر کی زمین میں اترے۔اُمت محمدیہ کے لئے نُزُول کا لفظ لَتَنْزِلَنَّ طَائِفَةٌ مِّنْ أُمَّتِى اَرُضًا يُقَالُ لَهَا الْبَصْرَةُ (كنز العمال جلد۷ صفحه۸۰ اکتاب القيامة من قسم الاقوال (الاکمال ) حدیث نمبر ۱۸۲۴) میری امت کا ایک گروہ ایک ایسی زمین میں اترے گا جس کا نام بصرہ ہوگا۔دجال کے لئے نُزُول کا لفظ يَأْتِي الْمَسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَ هِمَّتُهُ الْمَدِينَةَ حَتَّى يَنْزِلَ دُبُرَ أُحُدٍ (مشكوة كتاب الفتن باب علامات بين يدى الساعة و ذكر الدجال - كنز العمال الجز الثاني عشر صفحه ۰۸اکتاب الفضائل فضائل الامكنة والازمنة حديث نمبر ۳۴۸۵۳) فَيَنْزِلُ بَعْضَ السَّبَاخ (بخاری کتاب الفتن باب لا يدخل الدجال المدينة مشكواة كتاب الفتن باب علامات بين يدى الساعة و ذكر الدجال ) ترجمہ :۔کہ مسیح دجال مشرق کی طرف سے مدینہ کا قصد کر کے آئے گا۔یہاں تک کہ اُحد کی پیٹھ کی طرف اترے گا (۲) مدینہ کی ایک شور زمین میں اترے گا۔پس لفظ نزول سے دھو کہ نہ کھانا چاہیے کہ ضرور حضرت مسیح آسمان سے ہی آویں۔