مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 290 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 290

290 ۴۔حضرت مسیح کے لئے جہاں مقرب کا لفظ آیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔وَجِيْهَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ (آل عمران : ۴۶) کہ وہ دنیا میں بھی وجیہہ ہوگا اور آخرت میں بھی وجیہہ اور مقرب ہوگا۔پس حضرت مسیح کا مقرب ہونا الاخرة کے بعد ہے نہ کہ پہلے۔لہذا اگر تمہارا خود ساختہ قاعدہ مان بھی لیا جائے تب بھی حضرت مسیح کی وفات ہی اس سے ثابت ہوتی ہے۔معلوم نہیں کس طرح تم نے اسے حیات مسیح کی دلیل ٹھہرالیا ہے؟ غیر احمدی:۔حضرت مسیح کا صلیب پر لٹکایا جانا اس کے وجیہہ ہونے کے منافی ہے۔جواب:۔جی نہیں ! صلیب پر اپنے دشمنوں کے ہاتھوں مارے جانا بے شک وجاہت کے خلاف تھا کیونکہ عہد نامہ قدیم میں صلیب پر مارے جانے والے کو لعنتی کہا گیا ہے نہ کہ صلیب پر لٹکائے جانے والے کو۔پس مسیح کا محض صلیب پر لکھنا اور زخمی ہونا ان کے وجیہہ ہونے کی نفی نہیں کرتا۔آنحضرت کا دانت مبارک جنگ اُحد میں شہید ہو گیا۔حضور دشمنوں کے ہاتھوں زخمی ہو کر بے ہوش ہو گئے لیکن کیا تمہارے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم وجیہ نہ تھے ؟ حیات مسیح کی دسویں دلیل كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمُ (بخارى كتاب الانبياء باب نزول عيسى بن مريم) کہ اے مسلمانو ! تمہاری کیسی خوش قسمتی ہوگی کہ جب تم میں ابن مریم نزول فرما ہوں گے۔جواب:۔اس حدیث میں مِنَ السَّمَاءِ کا لفظ تو آیا نہیں۔ہاں دولفظ ہیں جن سے ہمارے دوستوں کو مغالطہ لگا ہے۔ایک نَزَلَ اور ایک ابن مریم نزول کے متعلق یا در ہے کہ اس کے لئے آسمان سے اترنا ضروری نہیں۔ملاحظہ ہو۔لفظ نُزُول قرآن میں ا قَدْ أَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُوْلًا يَتْلُوا عَلَيْكُمُ (الطلاق: ۱۲۱۱) کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف محمد رسول اللہ کو نازل فرمایا جو تم پر اللہ کی نشانیاں پڑھتا ہے۔کیا آپ آسمان سے آئے تھے؟ أَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْأَنْعَامِ (الزمر :) اللہ نے تمہارے واسطے جانور نازل کئے۔أَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ (الحدید : ۲۶) ہم نے لوہا نازل کیا۔وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَابِنُهُ وَمَا نُنَزِّلَةَ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ (الحجر: ۲۲)