مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 292
292 بي كامِنَ السَّمَاءِ نوٹ:۔اس جگہ بعض جاہل امام بیہقی ۱۳۲۸ھ کی کتاب الاسماء والصفات بیروت۔لبنان صفحہ نمبر ۴۲۴ سے یہ حدیث پیش کر دیا کرتے ہیں۔كَيْفَ اَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ مِنَ السَّمَاءِ فِيْكُمْ وَاِمَامُكُمْ مِنْكُمْ اول۔یادر ہے کہ امام موصوف اس کے بعد لکھتے ہیں۔رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْى بنِ بَكْرٍ وَ اَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ وَ مِنْ وَجْهِ اخَرَ عَنْ يُونُسَ وَ إِنَّمَا أَرَادَ نُزُولُهُ مِنَ السَّمَاءِ بَعْدَ الرَّفْعِ إِلَيْهِ - صفحه ۴۲۴ کہ اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے اور امام مسلم نے ایک اور وجہ سے یونس سے لیا ہے اور اس نے ارادہ نزول من السماء کا ہی کیا ہے۔امام کہتا ہے رواہ البخاری۔بخاری میں راوی اور الفاظ سب موجود ہیں مگر مِنَ السَّمَاءِ نہیں ہے پس معلوم ہوا یہ حدیث کا حصہ نہیں۔دوم۔اس روایت کا ایک راوی ابو بکر محمد بن اسحاق بن محمد الناقد ہے جس کے متعلق لکھا ہے كَانَ يَدَّعِي الْحِفُظَ وَ فِيهِ بَعْضُ التَّسَاهُل - (لسان الميزان لابن حجر حرف الميم۔ذكر محمد بن اسحاق ) کہ اس راوی میں تساہل پایا جاتا ہے۔پس مِنَ السَّمَاءِ کے الفاظ کا اضافہ بھی اس راوی کا تساہل ہے اصل حدیث کے الفاظ نہیں۔اس طرح اس روایت کا ایک اور راوی احمد بن ابراہیم بھی ضعیف ہے۔دیکھو لسان المیزان حرف الالف۔پس مِنَ السَّمَاءِ حجت نہیں۔علاوہ ازیں اس روایت کا راوی یحی بن عبد اللہ ہے اس کے متعلق لکھا ہے۔قَالَ أَبُو حَاتَم لَا يُحْتَجُ بِه۔۔۔۔۔وَ قَالَ النَّسَائِي ضَعِيفٌ۔۔۔لَيْسَ بِثِقَةٍ قَالَ يَحْيِي۔۔۔۔لَيْسَ بِشَيْءٍ - (تهذيب التهذيب ذکر یحیٰ بن عبدالله بن بكير و میزان الاعتدال ذکر یحی بن عبدالله الجابر الكوفي) اس طرح اس روایت کا ایک اور راوی یونس بن یزید بھی ضعیف ہے۔یہ روایت یونس بن یزید نے ابن الشہاب الزہری سے روایت کی ہے اور اس کے متعلق لکھا ہے کہ قَالَ أَبُو زَرْعَةُ الدَّمَشْقِى سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدَ ابْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ فِي حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِئُ مُنْكَرَاتٌ۔قَالَ ابْنُ سَعْدٍ لَيْسَ بِحُجَّةٍ۔كَانَ سَيِّئَ الْحِفْظِ۔(تهذيب التهذيب ذكر يونس بن یزید بن ابی النجاد ) کہ امام احمد بن حنبل نے فرمایا ہے کہ یونس کی ان روایت میں جو