مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 273
273 بلندی درجات اور قرب روحانی کے ہوتے ہیں۔ہم نے غیر حدی علماء کو بارہا یہ پانی دیا ہے کہ وہ کلام عرب سے ایک ہی مثال اس امر کی پیش کریں کہ لفظ رفع کا فاعل اللہ تعالیٰ مذکور ہو اور کوئی انسان اس کا مفعول ہو اور رفع کے معنی جسم سمیت آسمان پر اٹھا لینے کے ہوں مگر آج تک اس کی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جاسکی اور نہ ہی آئندہ پیش کی جاسکے گی۔غیر احمدی علماء کے مطالبہ کا جواب ہمارے مندرجہ بالا چیلنج کا منہ چڑانے کے لئے مؤلف محمدیہ پاکٹ بک نے بھی اپنی پاکٹ بک کے صفحہ ۴۸ ۵ طبع ۱۹۵۰ء پر یہ لکھ کر اپنی جہالت کا مظاہرہ کیا ہے۔جب رَفَعَ يَرْفَعُ رَفْعًا فَهُوَ رَافِعٌ میں سے کوئی بولا جائے جہاں اللہ تعالیٰ فاعل ہو اور مفعول جو ہر ہو ( عرض نہ ہو ) اور صلہ السی مذکور ہو اور مجرور اس کا ضمیر ہو،اسم ظاہر نہ ہو اور وہ ضمیر فاعل کی طرف راجع ہو، وہاں سوائے آسمان پر اٹھانے کے دوسرے معنی ہوتے ہی نہیں۔“ جواب نمبر : تم نے یہ من گھڑت قاعدہ کہاں سے اخذ کیا ہے۔کہو کہ جس طرح تم نے رفع کے متعلق اپنے چینج میں ایک قاعدہ خود ہی بنالیا ہے، اسی طرح ہم نے بھی بنا لیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم لفظ رفع کے متعلق چیلنج مندرجہ بالا میں جو شرائط درج کی ہیں وہ ہمارے خود ساختہ یا خود تراشیدہ نہیں بلکہ لغت عرب میں درج ہیں۔چنانچہ لسان العرب زیر مادہ دفع میں لکھا ہے: بالتقريب۔فِي أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى الرَّافِعُ هُوَ الَّذِى يَرْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ بِالْإِسْعَادِ وَ أَوْلِيَاءَ هُ کہ رافع اللہ تعالیٰ کا نام ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ مومنوں کا رفع ان معنوں میں کرتا ہے کہ ان کو سعادت بخشتا ہے اور اپنے دوستوں کا رفع ان معنوں میں کرتا ہے کہ ان کو اپنا مقرب بنالیتا ہے۔گویا اللہ کے رفع کا فاعل اور انسان (مومن اولیاء) کے مفعول ہونے کی صورت میں لفظ رفع کے معنی بلندی درجات وحصول قرب الہی ہے۔پس ہمارے چیلنج کی شرائط تو مندرجہ بالا حوالہ لغت پر مبنی ہیں مگرتم بتاؤ کہ تم نے جو قاعدہ درج کیا ہے اس کی سند محاورہ عرب میں کہاں ہے؟ جواب نمبر ۲:۔تمہارے من گھڑت قاعدہ کی تغلیظ کے لئے مندرجہ ذیل دو مثالیں کافی ہیں: