مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 274 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 274

274 ا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے۔حَتَّى إِذَا دَعَى اللَّهُ نَبِيَّةَ وَ رَفَعَهُ إِلَيْهِ ( تفسیر صافی صفحه ۱۳ از بر آیت وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُول ) یعنی حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلا لیا اور ان کا اپنی طرف رفع کر لیا۔۲۔حضرت شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی، حافظ عبدالبر کا مندرجہ ذیل قول آنحضرت کی وفات کی نسبت نقل کرتے ہیں : كَانَ الْحِكْمَةُ فِي بَعْثِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَايَةَ الْخَلْقِ وَتَتْمِيْمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ وَ تَكْمِيلَ مَبَانِي الدِّينِ فَحِيْنَ حَصِلَ هَذَا الْآمُرُ وَ تَمَّ الْمَقْصُودُ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ - (ماثبت بالسنة صفحه ۹۲ ومطبع محمدی لاہور صفحہ ۲۹) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت میں حکمت محض یہ تھی کہ مخلوق کو ہدایت ہو اور اخلاق اور دین کی تکمیل ہو۔پس جب یہ مقصود حاصل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی طرف رفع فرمالیا۔ان ہر دو حوالجات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن میں اللہ فاعل ، مفعول جو ہر ہے عرض نہیں ، صلہ بھی الی مذکور ہے اور مجر ور اسم ظاہر نہیں بلکہ ہ کی ضمیر ہے اور یہ ضمیر فاعل کی طرف راجع ہے مگر یہاں معنی آسمان پر مع جسم عصری اٹھائے جانے کے نہیں بلکہ متفقہ طور پر فوت ہو جانے کے معنی ہیں۔لفظ رفع کی دوسری مثالیں پہلے گزر چکی ہیں۔) قرآن کریم اور لفظ الی ا إِنِّي ذَاهِب إلى رَبِّي (الصفت: ١٠٠) ٢- الي مُهَاجِرُ إلى ربى ٣- إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ فَفِرُّوا إِلَى اللهِ ه إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ 4 - إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (العنكبوت: ۲۷) (یونس: ۵ و الانعام: ۶۱) (الثريت: ۵۱) (البقرة: ۱۵۶) (البقرة: ٢٩)