مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 159
159 رکھے۔پانچ نمازیں ادا کیں۔علاوہ ازیں سری گرو گرنتھ صاحب میں بعض اور کئی مقامات پر بھی نماز ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے بلکہ جنم ساکھیوں میں بابا صاحب نے نماز نہ پڑھنے والے کو عنتی قرار دیا ہے۔چنانچہ لکھا ہے: ل لعنت بر سرتناں جو ترک نماز کرین تھوڑا بہتا کھٹیا ہتھو ہتھ گوین جنم ساکھی بالاصفحہ ۲۲ بحوالہ خالصہ دھرم کے گوروؤں کی تاریخ از عبد الرحمان صفحه ۹۲ و جنم ساکھی ولایت والی صفحہ ۲۴۷) اور جنم ساکھی منی سنگھ صفحہ ۱۰۷ میں بابا صاحب کا حکم نماز با جماعت ادا کرنے کا درج ہے۔بابا نانک صاحب اور زکوۃ اسی طرح زکوۃ ادا کرنے کے بارے میں بابا صاحب کا ارشاد جنم ساکھی بالا صفحہ ۱۹۹ پر درج ہے۔دین نه مالِ زکوة جوتنس داسنوبیان اک لیون چورلٹ اک آفت پوے اجان پھر لکھا ہے: ل لعنت بر سرتناں جو ز کوۃ نہ کڈھدے بیان دھکا پوندا غیب دا ہوندا سب زوال جنم ساکھی منی سنگھ صفر ۴ ۴۱ بحوالہ ہمارا نا تک اور عباداللہ گیانی صفحہ ۱۳۷) نیز تواریخ گر و خالصہ صفحہ ۴۱۰ میں زکوۃ ادا کرنے کا حکم درج ہے۔بابا صاحب اور روزہ و حج آپ نے روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا ہے۔ملاحظہ ہو( گرنتھ صاحب صفحہ ۲۲ جنم ساکھی بالاصفحہ ۱۴۳ و ۱۷۸ بحوالہ خالصہ دھرم کے گروؤں کی تاریخ از عبد الرحمن (۱۵) بابا صاحب کو الہام ہوا کہ اے نانک مکے مدینے حج کر۔(جنم ساکھی بالاصفحہ ۱۳۶ و جنم ساکھی بالا ار دو صفحه ۱۵۳ بحوالہ خالصہ دھرم کے گوروؤں کی تاریخ از عبد الرحمان صفحہ ۹۹) اور با وا صاحب مردانہ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ : ”اگر ہمارے نصیب میں حج کعبہ ہے تو ہم بھی جائیں گے۔جنم ساکھی بالا صفحہ ۱۰۳۔پھر لکھتا ہے کہ آپ حاجی درویش بن کر سکے کے حج کو حاضر ہوئے اور سورہ کلام (سورۂ کلام سے قرآن شریف کی کوئی سورۃ مراد ہے) کی صفت کرنے لگے۔(جنم ساکھی بالاصفحہ ۱۳۱) اور آپ فرماتے ہیں۔” جو صدق دل سے حج کرے۔اس کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والا بے گناہ بچہ۔