مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 158
158 جنم ساکھی بالاصفحہ ۱۳۷ صفحه ۴۷۶ صفحه ۵۱۲ و جنم ساکھی میکالف والی صفحہ ۱۳۸ بحوالہ ہمارا نانک اورعباداللہ گیانی صفحہ ۱۷۸) اس سے صاف ثابت ہے کہ مسلمان بابا نانک صاحب کو مسلمان یقین کرتے تھے اور وہ بھی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔یادر ہے کہ گرو گوبند سنگھ صاحب سے پہلے گر وصاحبان اور ان کے سکھوں میں پیریں پونا کہا جاتا تھا ( دار۲۳ - پوری ۲۰۔مصنفه گورداس و گورمت سدھا کر صفحہ ۱۲۸ مصنفہ سردار کا ہن سنگھ ) یہ بالکل ثابت نہیں کہ جناب بابا صاحب نے کبھی ”پیریں پونا استعمال کیا ہو۔بابا نانک صاحب کا اذان کہنا اذان دینا بھی ایک پکے مسلمان کی علامت ہے۔بابا صاحب کے متعلق لکھا ہے کہ آپ نے کانوں میں انگلیاں ڈال کر اذان کہی (جنم ساکھی بالا صفہ ۲۰۳، بحوالہ خالصہ دھرم کے گوروؤں کی تاریخ از عبدالرحمان صفحه ۸۲ ۸۳) نیز بھائی گورداس نے آپ کا بغداد اور مکہ شریف میں اذان کہنا بتایا ہے۔ملاحظہ ہو( وار پہلی صفحہ ۱۳-۱۴ بحوالہ خالصہ دھرم کے گوروؤں کی تاریخ از عبدالرحمان صفحہ ۸۲ ۸۳ ) اور مسٹر میکالف نے لکھا ہے کہ ”جب کبھی وقت آیا تو گرو نانک صاحب نے حضرت محمد صاحب کے ماننے والے پکے مسلمانوں کی طرح بانگ دی“۔( میکالیف اتہاس صفحہ ۱۴۷ بحوالہ خالصہ دھرم کے گوروؤں کی تاریخ از عبدالرحمان صفحه ۸۲-۸۳) اذان کہنے والا بلند آواز سے خدا تعالیٰ کی بزرگی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا اقرار کرتا ہوا مسلمانوں کو نماز کے لئے مسجد کی طرف بلاتا ہے۔پس با بانا تک صاحب کے اذان دینے سے ثابت ہوا کہ وہ رسالت محمدیہ کے اقراری تھے۔آپ فرماتے ہیں: بابا صاحب اور نماز خصم کی ندر دلیہ پسندی جنی کر ایک دھیا یا تیہ کر رکھے پہنچ کر ساتھی ناؤں شیطان مت کٹ جائی گرنتھ صاحب صفحہ ۲۲ سری راگ محلہ اگھر ۳ بحوالہ خالصہ دھرم کے گوروؤں کی تاریخ از عبدالرحمان صفحہ ۹۰) یعنی خدا کی نگاہ اور دل میں وہی لوگ پسندیدہ ہیں جنہوں نے اس کو ایک جانا۔تمہیں روزے