مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 136
136 احمدی:۔خدا کے انبیاء کی آمد سے دو مخالف جماعتوں کا ہو جانا انبیاء کی آمد کی غرض نہیں قرار دی جاسکتی۔گو اس کو بعثت نبوت کے متعلق قرار دے لیا جائے۔مثلا ایک طالب علم بی۔اے کا امتحان دے اور اس میں فیل ہو جائے۔امتحان دینے سے اس کی غرض تو پاس ہونا تھی مگر وہ خلاف منشاء فیل ہو گیا۔اب اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں لڑکے نے بی۔اے کا امتحان دیا تا کہ وہ فیل ہو جائے تو یہ خلاف عقل ہوگا۔اسی طرح یہ کہنا کہ فلاں نبی دنیا میں اس لئے آیا کہ تا دنیا میں لڑائیاں ہونے لگ جائیں۔بالکل خلاف عقل بات ہے۔۸۔شیطان کا ساتھی قرآن مجید کہتا ہے اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا (النحل : ۱۲۹) کہ متقیوں کے ساتھ خدا تعالیٰ ہوتا ہے اور انبیاء کے ساتھ تو بوجہ ان کے اتقی الناس ہونے کے سب سے زیادہ۔لہذا حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ بھی خدا تھا مگر انجیل میں جو یسوع کی سوانح زندگی درج ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے ساتھ نہ تھا۔ا۔اس کی نا کام زندگی۔۲۔اس کا ایلی ایلی لما سبقتانی کہنا۔(متی ۲۷/۴۶)۔شیطان کا اس کے ساتھ چالیس روز رہنا اور پھر کچھ عرصہ کے لئے اس سے جدا ہونا۔۹ جھوٹ بولنا (لوقا ۴/۱۳) قرآن مجید سے ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ کے انبیاء سب سے زیادہ بچے اور بیچ بولنے والے اور راستباز ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے حضرت عیسی علیہ السلام بھی راست گواور سعادت شعار انسان تھے مگر انجیل کا یسوع راست گو نہ تھا۔ا۔بھائیوں کو کہا تم عید پر جاؤ۔میں نہیں جاتا مگر جب وہ چلے گئے تو ان کے پیچھے پیچھے چھپ کر خود بھی چلا۔( یوحنا ۸ تا ۷/۱۰ ) ۲۔یوحنا چاہو تو ا نو ایلیاہ جو آنے والا تھا یہی ہے( متی ۳ ۱۱/۴) مگر یوحنا کا انکار۔(يوحنا ۱/۲۱)