مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 135 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 135

135 ملاحظہ ہو:۔چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا کے نبی تھے لہذا بزدل نہ تھے مگر انجیل کا یسوع بز دل تھا۔۔قتل کا مشورہ بن کر چھپ کرچلا گیا اور کہاکسی کومیرا نام نہ بتانا (متی ۱۵ تا۱۲/۱۷) ۲۔ایک شہر میں تمہیں ستائیں تو دوسرے میں بھاگ جاؤ۔( متی ۱۰/۲۳)۔اسی تعلیم کے نتیجے میں پولوس رسول قید خانہ سے سیوا جی مرہٹے کی طرح ٹوکرے میں بیٹھ کر بھاگا تھا۔(۲۔کرنتھیوں۱۱/۳۳،۳۲) ۴۔جب یہودیوں نے مارنے کو پتھر اٹھائے تو ڈر کر کہا سب لوگ خدا کے بیٹے ہیں۔ے۔مفسد ہونا ( یوحنا ۳۱ تا ۱۰/۳۵) خدا کے انبیاء دنیا میں اصلاح کی غرض سے آتے ہیں جیسا کہ اِن أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا استطعت (هود: ۸۹) لہذا حضرت عیسی علیہ السلام بھی بوجہ نبی اور رسول ہونے کے بنی اسرائیل کی اصلاح ہی کے لئے آئے تھے۔مفسد ہونا تو قرآن مجید نے منافق کی نشانی قرار دی ہے مگر انجیل کا یسوع دنیا میں اصلاح کے لئے نہیں بلکہ فساد کیلئے آیا تھا۔ملاحظہ ہو:۔الف۔یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کروانے آیا ہوں۔صلح نہیں بلکہ تلوار چلانے آیا ہوں۔“ (متی ۱۰/۳۴) اور کہا کپڑے بیچ کر تلوار خرید و۔(لوقا۲۲/۳۷) ب۔”میں زمین پر آگ ڈالنے آیا ہوں اور اگر آگ لگ چکی ہوتی تو میں کیا ہی خوش ہوتا۔تم گمان کرتے ہو کہ میں صلح کرانے آیا ہوں میں کہتا ہوں کہ نہیں میں جدائی کرانے کیونکہ اب سے ایک گھر کے پانچ آدمی آپس میں مخالفت رکھیں گے۔باپ بیٹے سے مخالفت رکھے گا اور بیٹا باپ سے۔“ (لوقا ۱۲/۵۳،۵۲) ج۔میر اوہی شاگر د ہوسکتا ہے جو اپنے ماں باپ، بیوی بچوں، بہن بھائیوں کا دشمن ہو۔“ (لوقا ۱۴/۲۶) د۔اور خود ہی کہتا ہے جس گھر میں پھوٹ پڑے وہ برباد ہو جاتا ہے۔(لوقا ۱۱/۱۷) عیسائی:۔خدا کے نبی جب آتے ہیں کچھ لوگ ان کی مخالفت کرتے ہیں کچھ ایمان لے آتے ہیں۔اس طرح تفریق پڑ جاتی ہے۔