مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 134 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 134

134 ۶۔بد نمونه قرآن مجید نے اپنے مسیح کو مَثَلًا لَّبَنِي إِسْرَائِيل (الزخرف: ۶۱) یعنی بنی اسرائیل کے لئے اچھا نمونہ قرار دیا ہے۔مگر انجیلی یسوع کا نمونہ اس کے اخلاق و عادات قطعاً اس قابل نہیں تھیں کہ کوئی منصف مزاج انسان اس کو نمونہ کہہ سکے۔ا۔گالیاں دینا۔زنا کارلوگ (متی ۱۲/۳۹) اے سانپو! افعی کے بچو! (متی ۲۳/۳۳)اے بدکارو! (متی ۷/۲۳)۔اندھو ( متی ۱۷ تا ۲۳/۱۹) وغیرہ۔۲۔گندے ہاتھوں سے کھانا کھانا۔اس کے بعض شاگردوں نے جب اس کی موجودگی میں ناپاک یعنی بن دھوئے ہاتھوں سے روٹی کھائی۔(مرقس ۷۱۲) تو اس پر بعض فقیہوں اور فریسیوں نے اعتراض کیا۔اس کے جواب میں بجائے اپنے شاگردوں کو تادیب کرنے کے الٹا یہودیوں سے بحث کرنا شروع کر دیا اور کہا کوئی چیز باہر سے آدمی میں داخل ہو کر انسان کو نا پاک نہیں کر سکتی۔( مرقس ۷/۱۵) بغیر ہاتھ دھوئے کھانا کھانا آدمی کو نا پاک نہیں کرتا۔متی ۱۵/۲۰۔۳۔مغلوب الغضب تھا۔الف۔یہودیوں کو گالیاں دیں۔ب۔انجیر کے درخت پر بلا وجہ غصہ کھایا۔(مرقس ۱۱۴ اومتی ۱۹۔۲۱/۱۵) ۴۔غیر کی چیز پر بلا اجازت ہاتھ صاف کرنا جائز سمجھتا تھا۔اس کے شاگردوں کا بالیں توڑنا اور اس کا حمایت کرنا۔(متی ۱۲/۵،۱ مرقس ۲/۲۳) ۵۔بزدل ہونا۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اپنے بندوں کی عموماً اور انبیاء کی خصوصاًیہ صفت بتائی ہے کہ وہ بزدل نہیں ہوتے۔أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ (يونس: ٦٣) كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَ آنَا وَرُسُلِي (المجادلة: (۲۲) ع کجا غوغائے شاں بر خاطر من وحشتے آرد که صادق بزدلی نه بود وگر ببیند قیامت را درشین فارسی )