مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 133
133 ۵۔ایک بد کار عورت سے محبت (الف) اس کے پاؤں پر ایک بد چلن عورت نے عطر ڈالا۔(لوقا ۷۱۳ ) (ب) عطر ڈالنے والی بد چلن عورت کا نام مریم تھا۔جومر تھا اور لعز رکی بہن تھی۔(ج) یسوع اس بد چلن عورت سے محبت رکھتا تھا۔(یوحنا ۱۱/۵) (یوحنا ۱۱/۳ و ۱۲/۲،۳) ( د ) اس بد چلن عورت کو بھی یسوع سے محبت تھی۔(لوقا ۷۱۴۷) (ر) وہ بد چلن عورت روئی تو یسوع بھی گھبرا کر رونے لگا۔(یوحنا ۱/۳۵) (و) یسوع اس بد چلن عورت کے گھر گیا اور اس سے تنہائی میں باتیں کرتا رہا۔( لوقا ۳۷ تا ۷/۵۰ ) ( ز ) اس کے ساتھ عورتیں رہتی تھیں (لوقا ۸/۳۱ ومتی ۲۷/۵۵) ( ش ) ایک بد چلن سامری عورت سے جو کئی خاوند کر چکی تھی یسوع نے تنہائی میں معنی خیز گفتگو کی۔( یوحنا۷ تا ۴/۱۹) (ص) یہ فقرہ خاص طور پر قابل غور ہے اتنے میں اس کے شاگر د آ گئے اور تعجب کرنے لگے کہ وہ عورت سے باتیں کر رہا ہے پس عورت اپنا گھڑا چھوڑ کر شہر کو چلی گئی۔“ (یوحنا ۴/۲۸،۲۷) (ض) ایک نوجوان لڑکے سے محبت۔(یوحنا ۲۱/۷ و ۱۹/۲۶) ( ط ) اس کو گود میں بٹھانا اور چھاتی سے لگانا ( یوحنا ۱۳ تا ۲۶/ ۲۱/۲۱،۲۰٫۱۳) گویا اس لڑکے سے یسوع کو محبت تھی اور شاگر دیسوع سے جب کوئی راز کی بات پوچھنا چاہتے تو براہ راست پوچھنے کی بجائے اس لڑکے کے ذریعہ سے دریافت کرتے اور یسوع بتا دیتا۔یوحنا ۲۱/۲۰ سے معلوم ہوتا ہے کہ پطرس کو یہ فکر تھا کہ یسوع کے چلے جانے کے بعد اس لڑکے کا کیا حال ہوگا اور اس کا کون پُرسان حال ہوگا مگر یسوع نے مہمل سے فقرہ میں بات کو ٹال دیا۔یہی اور اسی قسم کی اور باتیں تھیں جن کی بناء پر جب پیلاطوس نے یہودیوں سے پوچھا کہ تم یسوع پر کیا الزام لگاتے ہو تو انہوں نے جواب میں اس سے کہا کہ اگر یہ بد کار نہ ہوتا تو ہم اسے تیرے حوالے نہ کرتے۔“ (یوحنا ۱۸/۳۰) بایں ہمہ جناب کا اپنا حال یہ تھا کہ ایک خون حیض والی عورت کے چھونے سے قوت نکل گئی۔( مرقس ۳۰/ ۵ ولو قا ۸/۴۶)