مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 815
815 وَأَشْكُرُ اللَّهَ عَلَى مَا أَعْطَانِي جَمَاعَةً أُخْرَى مِنَ الْأَصْدِقَاءِ الْأَنْقِيَاءِ مِنَ الْعُلَمَاءِ وَالصَّلَحَاءِ الْعُرَفَاءِ الَّذِينَ رُفِعَتِ الْأَسْتَارُ مِنْ عُيُونِهِمْ، وَمُلِئَتِ الصِّدْقُ فِي قُلُوبِهِمْ۔يَنْظُرُونَ الْحَقَّ وَيَعْرِفُونَهُ، وَيَسْعَوْنَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَمْشُونَ كَالْعَمِينِ۔وَقَدْ خُصُّوا بِإِفَاضَةِ تَهْتَانِ الْحَقِّ وَوَابِلَ الْعِرْفَانِ، وَرَضَعُوا شَدَى لِبَانِهِ، وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوْبِهِمُ وَجْهَ الله وَشَرَحَ اللَّهُ صُدُورَهُمْ وَفَتَحَ أَعْيُنَهُمْ وَآذَانَهُمْ، وَسَقَاهُمْ كَأْسَ الْعَارِفِينَ۔“ (حمامة البشری۔روحانی خزائن جلدے صفحہ ۱۸۱) پس شہادۃ القرآن صفحہ ۹۸ تا ۱۰۴ کے زمانہ کی تحریر سے ( جو اوائل دعویٰ کا زمانہ ہے ) تمسک کر کے جماعت احمدیہ کے اخلاق اور روحانیت پر حملہ کرنا بد دیانتی ہے اور اس کی مثال تو ایسی ہی ہے کہ تمہارے جیسا کوئی عقلمند کسی طبیب یا ڈاکٹر کے مطب یا ہسپتال میں نو آمد مریضوں کو دیکھ کر فوراً کہہ اٹھے کہ یہ طبیب یا ڈاکٹر تو بڑا نا قابل ہے۔کیونکہ اس کے پاس جس قدر مریض ہیں ان میں سے ایک بھی تندرست نہیں۔حالانکہ کسی معالج کی اہلیت یا عدم اہلیت کے اندازہ کیلئے اس کے نو وار دمریضوں کو نہیں دیکھا جا تا بلکہ ان لوگوں کی حالت کو دیکھا جاتا ہے جو کافی عرصہ اس کے زیر علاج رہ چکے ہوں۔۴ میسیج کا جائے نزول مسیح نے تو منارہ مشقی پر نازل ہونا تھا۔(مسلم کتاب الفتن باب نزول عیسی بن مریم) الجواب۔مینارہ والی حدیث پر علامہ سندی نے یہ حاشیہ لکھا ہے:۔وَ قَدْ وَرَدَ فِي بَعْضِ الْأَحَادِيثِ اَنَّ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَنْزِلُ بِبَيْتِ الْمُقَدَّسِ وَ فِي رَوَايَةٍ بِالْاُرُدُنِ وَ فِي رَوَايَةٍ بِمُعَسْكَرِ الْمُسْلِمِينَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ۔» ( حاشیہ ابن ماجه کتاب الفتن باب نزول عیسیٰ ابن مریم و مرقاة المفاتيح كتاب الفتن باب العلامات بين يدى الساعة و ذكر الدجّال) کہ بعض احادیث میں آتا ہے کہ عیسی علیہ السلام بیت المقدس میں نازل ہوں گے اور ایک روایت میں یہ ہے کہ اردن میں نازل ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ مسلمانوں کے لشکر میں ، خدا جانے درست بات کونسی ہے۔پس جہاں مسیح نازل ہوا و ہی درست اور صحیح ہے۔۵۔مہدی کا بنی فاطمہ میں ہونا حدیث میں ہے کہ مہدی حضرت فاطمہ کی اولاد سے ہوگا۔