مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 814
814 محبت سے پر ہیں اور بہتیرے ایسے ہیں کہ اگر میں کہوں کہ وہ اپنے مالوں سے بکلی دست بردار ہو جائیں یا اپنی جانوں کو میرے لئے فدا کریں تو وہ تیار ہیں۔جب میں اس درجہ کا صدق اور ارادت اکثر افراد اپنی جماعت میں پاتا ہوں تو بے اختیار مجھے کہنا پڑتا ہے کہ اے میرے قادر خدا! در حقیقت ذرہ ذرہ پر تیرا تصرف ہے تو نے ان دلوں کو ایسے پر آشوب زمانہ میں میری طرف کھینچا اور اُن کو استقامت بخشی یہ تیری قدرت کا نشان عظیم الشان ہے۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۴۰،۲۳۹)۔میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ بچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ بجالاتے ہیں۔اور باتیں سننے کے وقت ایسے روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔میں اپنے ہزار ہا بیعت کنندگان میں اسقدر تبدیلی دیکھتا ہوں کہ موسیٰ نبی کے پیروان سے جو ان کی زندگی میں ان پر ایمان لائے تھے ، ہزار ہا درجہ ان کو بہتر خیال کرتا ہوں۔اور ان کے چہروں پر صحابہ کے اعتقاد اور صلاحیت کا نور پاتا ہوں۔شاذ و نادر کے طور پر اگر کوئی اپنے فطرتی نقص کی وجہ سے صلاحیت میں کم رہا ہو تو وہ شاذ و نادر میں داخل ہے۔میں دیکھتا ہوں میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے۔یہ بھی ایک معجزہ ہے۔پھر بھی میں ہمیشہ ان کو اور ترقیات کے لئے ترغیب دیتا ہوں اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سناتا مگر دل میں خوش ہوں۔“ الذکر احکیم نمبر۔صفحہ ۱۶، صفحہ ۱۷۔وسیرۃ المہدی حصہ اوّل صفحہ ۱۴۶، ۱۴۷ مصنفہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے)۔میں دیکھتا ہوں کہ میری بیعت کرنے والوں میں دن بدن صلاحیت اور تقوی ترقی پذیر میں اکثر کو دیکھتا ہوں کہ سجدہ میں روتے اور تہجد میں تضرع کرتے ہیں۔نا پاک دل کے لوگ ان کو کافر کہتے ہیں۔اور وہ اسلام کا جگر اور دل ہیں۔“ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۳۱۵ بقیہ حاشیہ) ے۔میں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک مخلص اور وفادار جماعت عطا کی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ جس کام اور مقصد کے لئے میں ان کو بلاتا ہوں نہایت تیزی اور جوش کے ساتھ ایک دوسرے سے پہلے اپنی ہمت اور توفیق کے موافق آگے بڑھتا ہے۔اور میں دیکھتا ہوں کہ ان میں ایک صدق اور اخلاص پایا جاتا ہے۔میری طرف سے کسی امر کا اشارہ ہوتا ہے اور وہ تعمیل کے لئے تیار۔حقیقت میں کوئی قوم اور جماعت تیار نہیں ہو سکتی جب تک اس میں اپنے امام کی اطاعت اور اتباع کے واسطے اس قسم کا جوش اور اخلاص اور وفا کا مادہ نہ ہو۔“ (الحکم جلد ۸نمبر ۲۵، ۲۶۔۳۱ جولائی و ۱۰ اگست ۱۹۰۴ء صفحہ ۲ کالم نمبر ۴)