مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 803
803 میں آدم ہوں۔میں نوح ہوں۔میں ابراہیم ہوں۔میں اسحاقی ہوں۔۔۔سوضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جاوے اور ہر ایک نبی کی ایک صفت کا میرے ذریعہ سے ظہور ہو۔“ تتمہ حقیقت الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۲۱) ۲۔بحارالانوار میں امام باقر فرماتے ہیں:۔يَقُولُ الْمَهْدِيُّ) يَا مَعْشَرَ الْخَلَائِقِ۔۔۔۔اَلا وَمَنْ اَرَادَ أَنْ يَّنْظُرَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَعِيلَ فَهَا أَنَا ذَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَعِيلُ اَلا وَمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّنْظُرَ إِلَى مُوسَى وَيُوْشَعُ فَهَا أَنَا ذَا مُوسَى وَيُوشَعُ أَلَا مَنْ اَرَادَ اَنْ يَّنْظُرَ إِلى عِيسَى وَشَمُعُونَ فَهَا أَنَا ذَا عِيسَى وَشَمُعُونَ أَلَا وَمَنْ اَرَادَ أَنْ يَّنْظُرَ إِلَى مُحَمَّدٍ وَامِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَهَا أَنَا ذَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ( بحارالانوار جلد ۵۳ باب ما يكون عند ظهوره عليه السلام) د یعنی امام مہدی کہے گا کہ اے لوگو! اگر تم میں سے کوئی ابراہیم۔اسمعیل کو دیکھنا چاہتا ہے تو سن لے کہ میں ہی ابراہیم و اسمعیل ہوں اور اگر تم میں سے موسی و یوشع کو دیکھنا چاہے تو سن لے کہ میں ہی موسیٰ اور یوشع ہوں اور اگر تم میں سے کوئی عیسی و شمعون کو دیکھنا چاہتا ہے تو سن لے کہ میسی اور شمعون میں ہوں اور اگر کوئی تم میں سے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور امیر المؤمنین علی کو دیکھنا چاہتا ہے تو سن لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور امیر المؤمنین میں ہوں۔“ ۳۔پھر فرماتے ہیں:۔قَوْلُهُ فَهَا أَنَا ذَا آدَمُ يَعْنِي فِي عِلْمِهِ وَفَضْلِهِ وَاَخْلَاقِه۔(بحار الانوار جلد ۱۳ صفحه ۳۰۹) امام مہدی کا یہ فرمانا کہ میں آدم ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ آدم کے تمام فضل اور اخلاق مجھ میں پائے جاتے ہیں غرضیکہ میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار کہنا امام مہدی کی علامت ہے اور حضرت اقدس میں اس علامت کا پایا جانا آپ کی صداقت کی دلیل ہے۔نہ کہ جائے اعتراض۔۴۔امام مہدی کی تو خیر یہ علامت تھی لیکن ابو یزید بسطامی کی تو یہ علامت نہ تھی مگر فرماتے ہیں:۔پوچھا کہتے ہیں ابراہیم۔موسیٰ اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے بندے ہیں۔فرمایا ” میں ہوں جو شخص حق تعالیٰ میں محو ہو جاتا ہے وہ حق بن جاتا ہے اور جو کچھ ہے حق ہے ایسی صورت میں وہ