مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 802
802 ایک رات میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی استخوان مبارک ( ہڈیاں۔خادم ) لحد میں جمع کر رہے ہیں۔ان میں سے بعض کو پسند کرتے ہیں اور بعض کو نا پسند چنانچہ خواب کی ہیبت سے بیدار ہوئے (تذکرۃ الاولیاء اردو باب اٹھارہوں صفحہ ۴۶ نیز کشف الحجب مصنفہ حضرت داتا گنج بخش مترجم ارد صفحه ۱۰۶ سطر نمبر۲) حوالجات نمبر ۳ ۴ کے پیش نظر سید عطاء اللہ بخاری امیر شریعت احرار کا یہ قول بھی ملاحظہ فرماویں:۔خدا کو جو جی میں آئے کہو مگر محمد کے متعلق سوچ لینا یہ معاملہ عقل وخرد کا نہیں بلکہ عشق کا ہے پھر یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ قانون کیا کہتا ہے پھر جو ہونا ہو گا وہ ہو جائیگا اور جو ہو گا وہ دیکھا جائے گا“ ( تقریر سید عطاء اللہ بخاری بر موقعه احرار کا نفرنس لاہور مطبوعہ آزادم ارنومبر ۱۹۴۹ء صفحه ۲) لیکن تعجب ہے کہ احمدیوں کے خلاف تو بنی فاطمہ میں سے آنے والے مہدی کے اس رویا پر کہ حضرت فاطمتہ الزہرا نے اس کو فی الواقع اپنا بیٹا خیال فرمایا۔اشتعال انگیزی کو انتہا تک پہنچارہے ہیں لیکن مولوی حسین علی کے پل صراط والے رویا کو پڑھنے سنے پر بھی ان کی جھوٹی غیرت جوش میں نہیں آتی بلکہ ان کو رحمتہ اللہ علیہ سے ملقب کہہ کر پکارتے ہیں۔یادر ہے کہ مولوی حسین علی مذکور کو دیو بندی علما ء اپنا بزرگ تسلیم کرتے ہیں اسی طرح حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے رویا کی تاویل کرتے ہیں اور اس کو ظاہر پر محمول کر کے اشتعال انگیزی نہیں ہوتی۔حالانکہ ان کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم اطہر اب تک بجنسہ محفوظ ہے۔استخوان مبارک کے انتخاب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔بیج ہے۔گرچہ جرم عشق غیروں پر بھی ثابت تھا وے قتل کرنا تھا ہمیں ہم ہی گنہگاروں میں تھے (میر تقی میر) ۶۳۔میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں:۔میں کبھی آدم، کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار الجواب:۔اس شعر سے مراد یہ ہے کہ ان انبیاء کی کوئی نہ کوئی صفت حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں بھی پائی جاتی ہے۔یہ نہیں کہ آپ جامع جمیع صفات انبیاء ہیں چنانچہ خود حضرت اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں تحریر فرماتے ہیں:۔