مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 804
804 سب کچھ ہو تو کوئی تعجب کا مقام نہیں۔“ ( تذکرۃ الاولیاء مصنفہ حضرت شیخ فرید الدین عطار چودھواں باب صفحہ ۱۲۸) ۶۴۔غار ثور کی خستہ حالت حضرت مرزا صاحب نے یہ لکھا کہ غار ثور جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ لی تھی نہایت خستہ حالت میں تھی اس میں جانوروں کا میلا پڑا ہوا تھا آنحضرت کی توہین کی ہے؟ جواب: (۱) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہرگز تو ہین نہیں کی بلکہ یہ فرمایا ہے کہ ہمارے لئے غیرت کا مقام ہے کہ ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تو یہ ما نہیں کہ حضور کو جب دشمنوں نے مارنا چاہا تو خدا تعالیٰ نے آپ کو مکہ سے رات کی تاریکی میں ہجرت کا حکم دیا اور پھر ایک نہایت گندے غار میں آپ کو پناہ دی مگر جب مسیح کے دشمنوں نے ان کو مارنا چاہا تو خدا ان کو آسمان پر اٹھا کرلے گیا۔ملاحظہ ہو:۔(ب) غار ثور کی خستہ حالت کے متعلق حضرت اقدس نے جو کچھ لکھا وہ درست ہے صدیق رضی اللہ عنہ چوں دید کہ پائے مبارک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجروح گشت۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم را بر گردن نیشاند و گفت یا رسول اللہ ! اینجا توقف کن تا اول من در میں غار در آیم که شب است تا ریک و غار خالی از حشرات نمی باشد تا از اشک دیده منزلت را آب زنم و بجا روب مژه مسکنت را بردیم پس صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ایس گفت و در غار آمد غارے دید بسا خراب شده و مدتے کسے آنجا نہ رسیدہ واز عہد بعید روئے پیچ نزیلے نہ دیده و بر مثال سجلات زلات عصاة سیاه و تاریک گشته و مانند بیت الاحزان محزومان بے سامان گشته و در غایت ضیق و ناہمواری چوں اکباد عشاق۔۔۔پر از حیات وعقارب پس ابو بکر رضی اللہ عنہ جامه در برداشت پاره پاره کرده و بدست مبارک خود دران تاریکی یک یک سوراخ را تشخص کرده به پاره آن جا محکم میکرد۔پس ابوبکر بر آں طریقہ تمام سورا خہا مسدود ساخت۔مگر یک سوراخ که جامه او بداں وفا نہ کرد و پاشنہ پائے خود را بانجا فشرد و آنچه در خدمتگاری دست میداد پیش مے برد۔بعد ازاں آنحضرت رسالت را صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استدعا نمود۔۔۔آقا در غار در آمد (مدارج النبوة جلد رکن نمبر ، باب اول فصل اول در بیان مقدمات ہجرت آنحضرت صلعم صفحه ۷،۶)