مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 793 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 793

793 کرامات اولیاء سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہیں۔‘‘ (کشف المحجوب مترجم اردہ شائع کرده برکت علی اینڈ سنز علمی پر لیس صفحہ ۲۵۷) پس اندریں حالات حضرت مسیح موعو علیہ السلام کے نشانات، جن میں اکثر پیشگوئیاں بھی شامل ہیں۔اگر تین لاکھ کی بجائے دس لاکھ بھی ہوں پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات سے ان کی کوئی نسبت ہی نہیں ٹھہرتی۔(۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔ی سہولت کال پہلے کی نبی یا سول کو ہرگزنہیں ہوئی مگر ہمارےنبی صلی اللہ علیہ سلماس سے باہر ہیں کیونکہ جو کچھ مجھے دیا گیا وہ انہیں کا ہے۔“ ( نزول مسیح روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۴۰ حاشیه ) ان عبارات میں حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے جو اپنے نشانات و معجزات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب فرمایا ہے۔تو یہ کسر نفسی کے طور پر نہیں بلکہ امر واقع ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بعض نشانات جو حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۹۳ طبع اول سے آخیر کتاب تک لکھے ہیں۔اگر ان کو بغور دیکھا جائے تو وہ سب کے سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے نشانات اور معجزات ثابت ہوتے ہیں۔مثلاً حقیقۃ الوحی صفحه ۱۹۳ پر پہلا نشان حضرت اقدس علیہ السلام نے حدیث مجددین کو قرار دیا ہے۔کہ ہر صدی پر مسجد دین آنے کی پیشگوئی میری صداقت کا نشان ہے۔اب یہ پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اور اس کا چودہویں صدی کے سر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات میں پورا ہونا جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا نشان ہے وہاں اس سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا نشان ہے۔اسی طرح حقیقۃ الوحی صفحه ۱۹۴ پر حدیث کسوف و خسوف رمضان۔صحیح دارقطنی صفحہ۱۸۸ کو حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنی صداقت کا دوسرا نشان قرار دیا ہے اور در حقیقت یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ہے اور اس کا ۱۸۹۴ء میں حضرت اقدس علیہ السلام کے زمانہ میں پورا ہونا۔جہاں حضرت مسیح موعو علیہ السلام کی صداقت کا نشان ہے وہاں اس سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کا نشان ہے۔على هذا القیاس - حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۹۸ پر ایک نشان ستارہ ذوالسنین کے نکلنے کی پیشگوئی اور اس کا حضرت اقدس علیہ السلام کے وقت میں پورا ہونا۔ستارہ ذوالسنین نکلنے کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے جو نجی الکرامہ صفحہ ۲۵۰ پر درج ہے۔پس یہ بھی آنحضرت صلی اللہ