مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 794 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 794

794 علیہ وسلم کا نشان ہے۔غرضیکہ اسی طرح پانچواں، چھٹا، ساتواں هَلُمَّ جُرا۔نشان حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنی صداقت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی پیشگوئیوں کو قرار دیا ہے۔فرماتے ہیں:۔میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے ( ہزار ہزار درود اور سلام اُس پر ) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہوسکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اُس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ تو حید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اُس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اس لئے خدا نے جو اُس کے دل کے راز کا واقف تھا اُس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اُس کی زندگی میں اُس کو دیں۔وہی ہے جو سر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اُس کے کسی فضیلت کا دعوی کرتا ہے۔وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی نجی اُس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے۔جو اُس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم از لی ہے۔ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ہم کا فر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اسکے ٹور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اُس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اُسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اُس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۱۸ - ۱۱۹) غرضیکہ ان حقائق کے پیش نظر یہ کہنا کہ مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے نشانات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ قرار دیئے ہیں۔انتہائی بد دیانتی اور شرارت ہے۔خصوصاً جبکہ حضرت اقدس کا دعوی ہی یہ ہے۔"كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَ تَعَلَّمَ “ کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شاگرد ہوں اور ہر ایک برکت آنحضرت صلی اللہ علیہ الاستفتاء روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۷۰۵ ) وسلم ہی کے پاک وجود سے ہے۔“ نیز فرمایا:۔