مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 439 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 439

439 مذہب چھپا تا رہا جیسا کہ اس کے باپ نے اسے وصیت کی تھی۔۵۔عبید اللہ بن مهدی جواب:۔ا۔اس نے نبوت کا کبھی دعوی نہیں کیا۔۲۔اس نے اپنا کوئی الہام پیش نہیں کیا۔۳۔ابن خلکان نے وفیات الاعیان جلد نمبر ے ذکر المهدی عبید الله پر ایک روایت درج کی ہے کہ عبید اللہ ابومحمد الملقب بالمہدی کو دوسرے یا تیسرے سال الیع نے جو سجلماستہ کا حاکم تھا قید خانہ میں قتل کر دیا تھا اور پھر ایک شیعہ نے بعد میں جھوٹ موٹ ایک دوسرے آدمی کو عبید اللہ قرار دے دیا۔۶۔بیان بن سمعان جواب:۔یہ نہ مدعی وحی ، نہ مدعی نبوت ، نہ مدعی الہام۔ہاں اس کے بعض واہیات عقائد تھے مگر وہ تقول کی آیت کے ماتحت کسی طرح نہیں آسکتا۔سوال تو صرف تَقَوَّل عَلَى الله کا ہے نہ کہ غلط عقائد رکھنے کا۔چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ منھاج السنۃ میں لکھتے ہیں:۔بَيَانُ بْنُ سَمْعَانِ التَّيْمِيُّ الَّذِى تُنْسَبُ إِلَيْهِ الْبَيَانِيَةُ مِنْ غَالِيَةِ الشَّيْعَةِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَلى صُورَةِ الْإِنْسَان وَإِنَّهُ يَهْلِكُ كُلَّهُ إِلَّا وَجْهَهُ وَادَّعَى بَيَانُ أَنَّهُ يَدْعُوا الزُّهْرَةَ فَتُجِيبُهُ وَأَنَّهُ يَفْعَلُ ذَالِكَ بِالْإِسْمِ الأَعْظَمِ فَقَتَلَهُ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَسْرِيُّ (منهاج السنة جلدا صفحه ۲۳۸) که بیان بن سمعان تیمی وہ تھا جس کی طرف غالی شیعوں کا فرقہ بیانیہ منسوب ہوتا ہے اور وہ کہا کرتا تھا کہ خدا تعالیٰ انسان کی شکل کا ہے سارا خدا بھی آخر کار ہلاک ہو گا۔مگر اس کا چہرہ بیچ رہے گا اور یہ کہ وہ زہرہ ستارے) کو بلاتا ہے اور وہ اس کو جواب دیتی ہے اور یہ بات وہ صرف اسم اعظم کی برکت سے کرتا ہے۔پس خالد بن عبداللہ قسری نے اسے قتل کیا۔مُقنع جواب:۔وہ ۱۵۹ھ میں ظاہر ہوا۔اور ۱۶۲ ھ میں یعنی ۴ سال بعد اس نے زہر کھا کر خودکشی کر لی اور اس کا سر قلم کیا گیا۔( تاریخ کامل ابن اثیر جلد 4 صفحہ ۹)