مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 440
440 _ابوالخطاب الاسدی جواب :۔وہ مدعی الہام یا نبوت نہیں بلکہ مدعی الوہیت تھا۔۲۔وہ قتل ہوا۔چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ منہاج السنۃ جلد اصفحہ ۲۳۹ پر فرماتے ہیں:۔وَعَبَدُوا اَبَا الْخَطَّابِ وَ زَعَمُوا أَنَّهُ إِلهُ وَخَرَجَ أَبُو الْخَطَّابَ عَلَى أَبِي جَعْفَرَ الْمَنْصُورِ فَقَتَلَهُ عِيْسَى ابْنُ مُوسَى فِى سِجْنَةِ الْكُوفَةِ۔“ کہ لوگ ابوالخطاب کو خدا کر کے پوجنے لگے اور یہ خیال کیا کہ وہ خدا ہے۔پھر ابوالخطاب نے ابو جعفر منصور پر حملہ کیا۔پس عیسی بن موسیٰ نے کوفہ میں اسے قتل کر دیا نیز دیکھو۔(کتاب الفصل فی الملل و النحل از امام ابن حزم جلد ۲ صفحه ۱۱۴) ۹۔احمد بن کیال جواب:۔ا۔اس نے نہ دعوی نبوت کی نہ دعویٰ وحی والہام۔۲۔وہ سخت نا کام ونامراد ہوا۔لَمَّا وَقَفُوا عَلى بِدُعَتِهِ تَبَرَّءُ وُا مِنْهُ وَلَعَنُوهُ “ (الملل والنحل جلد ۲ صفحہ ۷ ابر حاشیہ الملل والنحل از امام ابن حزم) کہ اس کے متبعین کو جب اس کی بدعت کا علم ہوا تو انہوں نے اس سے براءت کا اظہار کیا اور اس پر لعنت بھیجی۔۱۰۔مغیرہ بن سعد بجلی جواب۔اس کے متعلق کہیں بھی نہیں لکھا کہ اس نے وحی یا الہام یا نبوت کا دعویٰ کیا ہو۔پس اس کو پیش کرنا جہالت ہے۔پیش کرے۔لَوْ تَقَوَّلَ والی آیت کے تحت وہی آئے گا جو مدعی کوحی والہام ہوا اور اپنا الہام یا وحی کو لفظاً تیسری دلیل :۔يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءهُمْ (البقرة: ۱۴۷) که نبی کو اس طرح سے پہچانتے ہیں جس طرح باپ اپنے بیٹے کو۔گویا جس طرح بیوی کی پاکیزگی خاوند کے لئے اس امر کی دلیل ہوتی ہے کہ پیدا ہونے والا اس کا ہی بچہ ہے۔اسی طرح مدعی نبوت کی قبل از دعوئی پاکیزگی اس کے دعوی کی صداقت پر دلیل ہوتی