مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 270
270 بَلْ زَفَعَهُ اللهُ الیہ میں آسمان کا لفظ بھی موجود نہیں ہے۔وہاں رفع اللہ کی طرف ہے اور ہم ثابت کر چکے ہیں کہ وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَوتِ وَ فِي الْأَرْضِ (الانعام: ۴) کہ اللہ تعالیٰ زمین میں بھی ہے اور آسمان میں بھی مگر مندرجہ بالا حدیث میں تو لفظ آسمان بھی موجود ہے مگر پھر بھی مولوی صاحبان اس کا ترجمه روحانی رفع یعنی بلندی درجات ہی لیتے ہیں۔پس ثابت ہوا کہ حضرت عیسی کے لئے جو لفظ رفع استعمال ہوا ہے اس میں بھی رفع کے معنی بلندی درجات ہی کے ہیں نہ کہ آسمان پر چڑھ جانے کے۔مَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ " (مسلم کتاب البر والصلة باب استجاب الـعـفـو والتواضع - مصر) یعنی کوئی ایسا شخص نہیں کہ وہ اللہ کے آگے گرا ہوا اور پھر اللہ نے اس کا رفع نہ کیا ہو (یعنی جو اللہ کے آگے گرے اللہ اس کا رفع کرتا ہے۔)۔آنحضرت اپنے چچا حضرت عباس کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔رَفَعَكَ اللهُ يَا عَمّ (كنز العمال كتاب الفضائل۔فضائل الصحابة حرف العين )اے میرے چا اللہ آپ کا رفع کرے۔التَّوَاضُعُ لَا يَزِيدُ الْعَبُدَ إِلَّا رَفْعَةً فَتَوَاضَعُوا يَرْفَعُكُمُ اللهُ (كنز العمال الجزء الثالث كتاب الاخلاق من قسم الاقوال حدیث نمبر۵۷۱۷) کہ خاکساری انسان کو رفعت میں بڑھاتی ہے۔پس تم انکساری کرو، اللہ تعالیٰ تمہارا رفع کرے گا۔ه - مَنْ تَوَاضَعَ لِلهِ رَفَعَهُ اللهُ (کنز العمال الجزء الثالث كتاب الاخلاق من قسم الاقوال حدیث نمبر ۵۷۱۷) کہ جو شخص اللہ کے آگے گر جائے اللہ اس کا رفع کرتا ہے۔٦- مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ تَخَشُعًا لِلَّهِ رَفَعَهُ الله (کنز العمال جلد ۲ نفر ۲۵ حدیث ۵۹۵ زیر حرف صفحه الهمزة في الاخلاق من قسم الاولى ) کہ جو انکساری کرتے ہوئے اللہ کے آگے گرے تو اللہ اس کا رفع کرتا ہے۔لغات عرب اور لفظ رَفَعَ ا۔صحاح جوہری زیر لفظ رفع۔اَلرَّفْعُ تَقْرِيبُكَ الشَّيْء - رفع سے مراد کسی چیز کو ” “۔قریب کرنا ہے۔گویا دفع کے معنے قرب کے ہیں۔۲۔اقرب الموارد زیر لفظ رفع رَفَعَهُ إِلَى السُّلْطَانِ رفعانًا أَيْ قَرَّبَهُ۔قریب کیا اس کو بادشاہ کے یعنی اس کا مقرب بنایا۔