مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 269
269 سب مومن مانتے ہیں کہ آپ کا رفع ہوا مگر زمین پر ہی رہ کر۔بھائیو! جب وہی لفظ رَفَعَ آنحضرت کے لئے آتا ہے تو اس سے آسمان پر جانا مراد نہیں لیتے اور جب عیسی کے لئے آوے تو وہاں مراد لیتے ہو۔ایں چہ بوالمجمی است ! پھر طرفہ یہ کہ تمام قرآن واحادیث میں کہیں بھی اس لفظ رفع کے معنی آسمان پر جانا نہیں۔چنانچہ دیکھئے فرمایا: ا وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعَهُ بِهَا وَلَكِنَة أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ (الاعراف: ۱۷۷) اور اگر ہم چاہتے تو اس کا رفع کر لیتے لیکن وہ جھک گیا زمین کی طرف۔اس جگہ بالا تفاق درجات کی ترقی مراد ہے۔آسمان پر لے جانے کا ارادہ بتانا مد نظر نہیں۔۲۔وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا (مریم: ۵۸) یعنی ہم نے اور بیس کا رفع بلند مکان پر کیا۔فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللهُ أَنْ تُرْفَعَ في صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ مُرْفُوعَةٍ ۵- وَفَرَسٌ مَّرْفُوعَةٍ يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا دَرَجَةٍ (النور: ۳۷) (عبس: ۱۵،۱۴) (الواقعة: ۳۵) (المجادلة: ١٢) گویا جب بھی کسی مومن اور عالم کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ کہے کہ میں نے اس کا رفع کیا ہے تو اس سے مراد آسمان پر جانا نہیں ہوتا بلکہ درجات کا بلند ہونا ہوتا ہے۔حضرت عیسی سے زیادہ ان کے زمانہ میں اور کون مومن اور عالم تھا؟ پس آپ کے رفع سے مراد بھی ترقی درجات ہے۔احادیث اور لفظ رَفَعَ ا إِذَا تَوَاضَعَ الْعَبْدُ رَفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ (كنز العمال الجزء الثالث كتساب الاخلاق قسم الاقوال حدیث نمبر ۵۷۱۷) کہ جب بنده فروتنی کرتا ہے ( خدا کے آگے گرتا ہے ) تو اللہ تعالیٰ اس کا ساتویں آسمان پر رفع کر لیتا ہے۔نوٹ: یہ حدیث محاورہ زبان کے لحاظ سے بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ کے معنے سمجھنے کے لئے واضح نص ہے کیونکہ اس میں لفظ رفع بھی موجود ہے۔رفع کرنے والا بھی اللہ ہے اور خاص بات جواس میں موجود ہے وہ یہ کہ رفع کے فعل کا صلہ بھی الی ہی آیا ہے۔جیسا کہ آیت بَلْ زَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ میں ہے۔اور زائد بات یہ کہ اس میں ساتویں آسمان کا لفظ بھی موجود ہے (السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ) حالانکہ آیت