مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 271 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 271

271۔لسان العرب زیر لفظ رفع - فِي أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى الرَّافِعُ هُوَ الَّذِي يَرْفَعُ الْمُؤْمِنَ بِالاسْعَادِ وَ اَوْلِيَاءَ هُ بِالتَقْرِيب۔۔۔۔۔وَالرَّفْعُ تَقْرِيْبُكَ الشَّيْءَ مِنَ الشَّيْءِ وَفِي التَّنْزِيلِ وَ فُرُشٍ مَّرْفُوعَةٍ أَى مُقَرَّبَةٍ لَهُمُ۔۔۔وَيُقَالُ نِسَاءٌ مَرْفُوعَاتٌ أَيْ مُكَرَّمَاتٌ مِنْ قَوْلِكَ إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ مَنْ يَّشَاءُ۔۔۔۔۔وَقَوْلُهُ تَعَالَى فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ قَالَ الزُّجَاجُ قَالَ الْحَسَنُ تَأْوِيلُ أَنْ تُرْفَعَ اَنْ تُعَظَّمَ کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں رافع کا لفظ ہے کیونکہ وہ بلند کرتا ہے مومن کو سعادت کے ساتھ اور اپنے دوستوں کو قرب کے ساتھ۔اور رفع کسی چیز کو کسی چیز کے قریب کرنا اور قرآن کریم میں ہے یعنی ان کی عزت کی جائے گی۔۴۔تاج العروس زير لفظ رفع - الرَّفْعُ ضِدُّ وَضَعَهُ وَ مِنْهُ حَدِيثُ الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ ارْفَعُنِی کہ رفع وضع کی ضد ہے۔جیسا کہ حدیث میں دعا ہے کہ اے میرے رب میر ارفع کر۔۔منتہی الارب جلد اصفحہ ۱۷۷ - رَفَعْتُهُ إِلَى السُّلْطَانِ رُفْعَانًا بِالضَّمِّ أَيْ قَرَّبْتُهُ - بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ يَحْتَمِلُ رَفَعَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَ رَفَعَهُ مِنْ حَيْثُ التَّشْرِيفِ (مفردات راغب بر حاشیہ نہایہ لابن الاثیر جلد ۲ صفحه ۸۰) تفاسیر سے رفع کے معنی آنحضرت صلعم کے لئے رَفَعَهُ إِلَيْهِ کا استعمال ا۔یہ عجیب بات ہے کہ رَفَعَهُ إِلَيْهِ کے الفاظ بعینہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی استعمال ہوئے ہیں اور اس استعمال سے آیت متنازعہ فیہ کے معنی بالکل واضح ہو جاتے ہیں۔چنانچہ تفسیر صافی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔حَتَّى إِذَا دَعَى اللَّهُ نَبيَّهُ وَرَفَعَهُ إِلَيْهِ ( تفسیر صافی زیر آیت وَ مَامُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ( یعنی حتی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اپنے پاس بلایا اور آپ کا اپنی طرف رفع کیا ( یعنی آپ کو وفات دی)۔بعینہ اسی طرح آنحضرت کے لئے رَفَعَهُ إِلَيْهِ کا لفظ بمعنی وفات - کتابُ وَ مَا ثَبَتَ بالسنة ، صفحہ ۳۹ پر بھی ہے۔ان ہر دو حوالوں میں لفظ رفع بھی ہے۔اللہ فاعل مذکور ہے اور صلہ الی ہے مگر معنی موت کے ہیں۔