مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 197
197 یا جس سے میں محبت کرتا ہوں علی بھی اس سے محبت کرتا ہے۔”مولا‘ ظرف ہے جس کے معنی محل محبت کے ہیں۔۲۔ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابی کے سامنے اعلان کیا تو اس کے دوتین ماہ ہی بعد آنحضرت ﷺ کی وفات کے دن وہ ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابی کہاں گئے تھے؟ ان میں سے ایک بھی تو خلافت کے لئے حضرت علی کا نام نہیں لیتا۔۳۔حضرت علی بھی اپنی خلافت کے لئے اس حدیث کو پیش نہیں کرتے۔۴۔یہاں تک کہ جب حضرت عثمان کی وفات پر حضرت علی خلیفہ منتخب ہوئے تو حضرت معاویہ نے انکار کر دیا۔حضرت علیؓ نے اپنی خلافت منوانے کے لئے متعدد دلائل دیئے مگر خم غدیر کے واقعہ کا کہیں ذکر نہیں کیا لہذا ثابت ہوا کہ یہ بعد کی اختراع ہے۔شیعہ:۔اَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا جواب :۔یہ حدیث ضعیف ہے۔دیکھو (ترمذی کتاب المناقب باب مناقب علی) ۲۔اس حدیث کے متعلق لکھا ہے: ذَكَرَهُ ابْنُ الْجَوْزِى فِى الْمَوْضُوعَاتِ مِنْ عِدَّةِ طُرُقٍ وَجَزَمَ بِبُطْلَانِ الْكُلِّ “ ( اللمعات بر حاشیه مشكوة مطبوعہ اصح المطابع دہلی صفحه ۵۶۴) اس حدیث کو ابن جوزی نے متعدد طرق سے روایت کر کے موضوع قرار دیا ہے۔نیز اس کے سب طریقوں کو باطل قرار دیا ہے۔نیز دیکھوفوائد الجموع فی احادیث الموضوع مصنفہ امام شوکانی مطبوعہ دار الکتاب العربی ۳۷۳ حدیث ۳۵ طبع اولی ۱۹۸۶ء) ۳۔اس کا ترجمہ ہے ” میں علم کا شہر ہوں اور اس کا دروازہ بہت بلند ہے؟ کہاں ہے ذکر علی ؟ ۴۔ایک دروازہ والا بھی شہر ہوا ہے ؟ ہاں جیل خانے اور کوٹھڑی کا ایک دروازہ ہوتا ہے۔شہر کے کم از کم چار دروازے ہونے چاہئیں۔ہمارے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم علم کا شہر ہیں اور ابوبکر وعمر وعثمان و علی رضی اللہ عنہم اس شہر کے چار دروازے ہیں حضرت علی بھی ان میں سے ایک ہیں۔یادر ہے کہ مندرجہ بالا حدیث میں ایک دروازے کا حصر نہیں۔۵۔خود حضرت علیؓ نے حضرت عثمان سے فرمایا۔انكَ لَتَعْلَمُ مَا نَعْلَمُ ( نبع البلاغہ جز ثانی۔۱۵۹- ومن كلام له لما اجتمع الناس له ) کہ اے عثمان ! تو اتنا ہی عالم ہے جتنا میں۔پس حضرت عثمان کی حضرت علیؓ سے مساوات علمی ثابت ہے۔اگر وہ علم کا دروازہ ہیں تو عثمان بھی بوجہ مساوات علمی