مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 198
198 رکھنے کے علم کا دروازہ ہوئے۔شیعہ:۔حضرت علیؓ کے لئے رجعت شمس کا معجزہ ظاہر ہوا اور یہ ان کی فضلیت کی دلیل ہے۔جواب:۔رجعت شمس والی روایت سراسر جعلی اور موضوع ہے۔(ملاحظہ ہو موضوعات کبیر ملا علی قاری صفحه ۸۹ نیز الفوائد المجموعه فی احادیث الموضوعہ مصنفہ امام شوکانی مطبوعہ دار الكتاب العربي صفحه ۳۶۹-۳۷۰) شیعہ:۔حدیث طیر سے حضرت علی کی فضیلت ثابت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ خدایا ! اس آدمی کو بھیج دے جو تمام انسانوں میں سے تجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتا کہ وہ میرے ہمراہ اس پرندے کا گوشت کھائے تو حضرت علی تشریف لے آئے۔جواب:۔یہ روایت بھی سراسر جعلی ہے۔چنانچہ لکھا ہے: لَهُ طُرُقْ كَثِيرَةٌ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ الْجَوْزِي فِي الْمَوْضُوعَاتِ الفوائد المجموعه فی احادیث الموضوع صفحه ۱۲۹) کہ یہ روایت جتنے طریقوں سے مروی ہے وہ سب ضعیف ہیں اور ابن جوزی نے کہا ہے کہ یہ روایت وضعی یعنی جعلی ہے۔حضرت عثمان کا جنازہ اعتراض شیعہ :۔حضرت علی نے حضرت عثمان کا جنازہ نہیں پڑھا۔جواب:۔غلط ہے حضرت عثمان کے جنازے پر حضرت علی حاضر ہوئے چنانچہ لکھا ہے۔ا وَقِيلَ شَهِدَ جَنَازَتَهُ عَلِيٌّ وَ طَلْحَةُ وَ زَيْدُ ابْنُ ثَابِتٍ وَكَعْبُ ابْنُ مَالِكَ (کامل ابن اثیر جلد ۳ صفحه ۱۸۰ مطبوعہ بیروت ۱۳۸۵ھ ) کہ حضرت عثمان کے جنازہ پر حضرت علی طلحہ ، زید بن ثابت اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہم حاضر ہوئے۔۲۔اسی طرح شیعوں کی ناسخ التواریخ میں ہے: دد حسن بن علی یا عبداللہ بن زبیر و ابو جہم بن حذیفہ و چند تن جسد اور ا بر تخته پاره نهادند۔و جشن نام بستان است در آنجا خاک سپردند (تاریخ التواریخ کتاب دوم جلد ۲ صفحه ۴۳۸) گویا حضرت علی نے حضرت عثمان کا جنازہ بوساطت امام حسن کرایا۔یادر ہے کہ جنازہ پڑھنا فرض کفایہ ہے نیز جو امر حضرت علی کو ( بقول شما) جنازہ پڑھنے سے مانع تھا وہ حضرت حسنؓ کو کیوں مانع نہ ہوا۔