مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 144 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 144

144 چنانچہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق اسی سورۃ مریم میں ہے آتَيْنَهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا (مریم: ۱۳) کہ ہم نے اس کو بچپن ہی کی عمر میں دانائی دی یعنی وہ بچپن میں ہی دانائی کی باتیں کرتے تھے۔چنانچہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ان لوگوں کی جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کا زمانہ دیکھا شہادت ہے کہ حضور رعلیہ الصلوۃ والسلام بچپن ہی میں عام بچوں سے بہت ممیز تھے اور لغویات میں حصہ نہ لیتے تھے اور لغو کھیل کود کی طرف خیال نہ تھا۔جیسا کہ عام بچوں کا ہوتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ ورقہ بن نوفل نے آپ کی دانائی کی باتوں سے معلوم کر لیا کہ آپ بڑے ہو کر انبیاء کے سردار بنیں گے۔( بخاری باب کیف بدء الوحی الی رسول الله صلى الله عليه وسلم) باقی رہا یہ کہنا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو بچپن ہی میں نبوت اور کتاب مل گئی تھی یہ قرآن سے ثابت نہیں۔سورۃ آل عمران نکال کر دیکھئے وہاں فرشتہ حضرت مریم کے پاس آکر خوشخبری دے رہا ہے کہ تیرے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوگا اور یہ امر خدا کی قدرت کاملہ کے آگے نا ممکن نہیں وَيُعَلِّمُهُ الكِتب وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَيةَ وَالْإِنجِيلَ وَرَسُولًا إِلى بَنِي إِسْرَاوِيْلَ أَنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ بِايَةٍ مِنْ ریكُم (آل عمران: ۵۰،۴۹) کہ وہ بچہ جو پیدا ہو گا اس کو اللہ تعالیٰ کتاب سکھائے گا پھر تو رات کا سبق پھر اس کے بعد انجیل اور وہ ہو گا بنی اسرائیل کی طرف رسول۔یہ کہ میں آیا ہوں خدا کی طرف سے نشان لے کر۔یعنی حضرت مسیح کا اپنا کلام شروع ہو جاتا ہے۔فرشتہ نے قبل از وقت ولادت کی پیشین گوئی کو بیان کرتے کرتے بغیر کسی وقفہ کا ذکر کرنے کے اس پیدا ہونے والے کا اپنا کلام ذکر فرما دیا ہے۔پیدائش کا ذکر بھی نہیں کیا۔تو معلوم ہوا کہ قرآن مجید صرف ضروری باتوں کا ذکر ضروری جگہ پر فرما دیتا ہے۔چنانچہ اتنے بڑے وقفہ کا ذکر نہیں کیا اور اسلوب بیان اور بیان پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا یہ کلام اس زمانہ کا ہے جب آپ نبوت کی عمر کو پہنچ کر نبی بن چکے تھے اور منجزات دکھاتے تھے بچپن کا آیات مذکورہ میں کہیں ذکر نہیں۔سورۃ مریم میں مَنْ كَانَ فِي الْمَهْدِ صبا (مریم:۳۰) کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی کل کا بچہ ہے اس کے ساتھ ہم کیسے گفتگو کریں۔یہ تو ہمارے ہاتھوں میں پلا ہے۔جیسا کہ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کہا اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا وَلِيْدًا (الشعرآء : ۱۹) کیا تو بچپن کی حالت میں میرے ہاتھوں میں نہیں پلا؟ آج تو مجھے ہی نصیحتیں کرنے آگیا ہے۔اسی طرح یہاں بھی یہودی عمائد حضرت مریم کو جواب دیتے ہیں۔سگان “ہمارے معنوں کی تائید کرتا ہے فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا (مریم: ۲۸ ) کی ”ف“ سے یہ نتیجہ نکالنا کہ یہ ولادت کے معابعد کا واقعہ ہے درست نہیں۔عربی زبان میں ” فا نتیجہ کے لئے