مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 143
143 میں کھجور کے تنے کو ہلانے کی تکلیف دہی کی کیا ضرورت تھی؟ پس ان آیات سے کہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔بھلا حضرت مریم بیچاری تو اپنے مخصوص حالات کی بناء پر جب قوم کی طرف سے مقطوع ہو جانے پر مجبور ہو چکی تھیں اور کوئی انسان ان کی تسکین کے لئے وہاں موجود نہ تھا۔نہ کوئی دائی تھی نہ عورت۔ایسے موقع پر اگر خدا تعالیٰ نے اس پاک عورت کو آواز دے کر کھجور کا تنا ہلا کر کھجوریں کھانے کی ہدایت فرمائی تو ایک لا بدی امرکیا۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ایسے حالات میں نہ ہوئی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کے لئے کوئی امرا اپنی قوم کی نظروں میں استحقار سے دیکھے جانے کے قابل ہو۔ہاں آپ کی جدہ حضرت ہاجرہ جب کہ وہ بے کس و بے بس تھیں اور کوئی انسان ان کی تسکین کے لئے وہاں موجود نہ تھا، وہاں بھی فرشتہ نازل ہوا۔(بخاری کتاب الانبیاء باب يزفون النسلان في المشي ) مزید برآں حضرت مریم کے متعلق جس قدر قرآن مجید میں الفاظ ہیں بطور ذب“ کے ہیں نہ کہ بطور مدح کے۔لہذا ان کی فضیلت ثابت نہیں ہوسکتی۔دلیل نمبر ۴ مسیح کا تكلم في المهد و ایتاء کتاب و نبوت بزمانه شیر خوارگی الجواب: - قرآن مجید میں حضرت مسیح علیہ السلام کا نام نہ صرف تـكـلـم في المهد بلکہ تكلم في الكهل بھی مذکور ہے یعنی فرشتے نے حضرت مریم کو کہا کہ تیرا بیٹا مھد (چھوٹی عمر ) میں بھی کلام کرے گا اور کھل (چالیس سال کی عمر ) میں بھی۔اب اگر مھد کے معنی گہوارہ لے کر اس کو معجزہ قرا دیا جائے تو کھل ( تھیں چالیس سال کی عمر ) میں کیا سب لوگ باتیں نہیں کرتے۔پھر حضرت عیسی علیہ السلام کی کیا خصوصیت ہوئی ؟ اصل بات یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو چالیس سال کی عمر میں نبوت ملتی ہے۔باتیں چالیس سال کی عمر میں سب انسان ہی کرتے ہیں مگر نبی چالیس سال کی عمر میں نبوت کی باتیں کرتا ہے۔جو اس کو دوسرے لوگوں سے ممیز کرتی ہیں۔پس تکلم فی المهد ( بچپن کی عمر میں باتیں کرنے کا ) مطلب یہ ہوگا کہ بچپن میں باتیں تو سب بچے کرتے ہیں مگر خدا کینی بچپن ہی سے عقل کی باتیں کرتے ہیں۔ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات