مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 145 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 145

145 بھی آتی ہے۔مہ ہے۔مطلب یہ ہے کہ وہ بچہ جو رَسُولًا إلى بَنِي اِسراءيل (آل عمران: ۵۰) ہونے والا تھا۔جب بڑا ہو گیا تو ان کی ماں ان کو ساتھ لے کر بنی اسرائیل کی طرف آئیں تا کہ وہ ان کو تبلیغ حق کریں جو ان کی پیدائش کا مقصد تھا۔چنانچہ اسی رکوع میں ہے فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا (مریم: ۲۳) پس حضرت مریم حاملہ ہو گئیں اور ایک دور کے مکان میں چلی گئیں۔پس در وزہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے گئی۔اب حمل کے بعد ہی دروزہ کا ذکر ہے اور فاجاءها المخاض پر ”ف“ استعمال ہوتی ہے۔کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ حمل ہوتے ہی دردزہ شروع ہو گیا ؟ پس ”ف“ سے معابعد لینا درست نہیں۔۲۔قرآن مجید سورۃ آل عمران کی آیت او پر نقل کر آیا ہوں کہ فرشتہ نے آکر مریم کو بتایا کہ حضرت مسیح کو پہلے علم کتاب عطا ہوگا پھر علم حکمت، پھر علم تو رات اور اس کے بعد ان کو پنی کتاب (انجیل ) عطا ہوگی اور یہی اللہ تعالیٰ کا باقی سب انبیاء کے ساتھ دستور ہے۔یعنی پہلے ان کو فہم کتاب عطا ہوتا ہے پھر انہیں کتاب ملتی ہے۔پھر قرآن مجید میں ہے اِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَو حَيْنَا إِلى نُوح و عيسى (النساء: ۱۲۴) یعنی اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )! ہم نے آپ پر اسی طرح وحی نازل کی ہے جس طرح نوح علیہ السلام اور دیگر انبیاء حضرت عیسی والیوب وغیرھم علیہم السلام پر نازل کی تھی۔اب قرآن مجید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اسی طرح وحی کا نزول بیان فرماتا ہے جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام پر ہوا اور اس میں کسی قسم کا فرق قرار نہیں دیتا۔نہ حضرت عیسی علیہ السلام کی کوئی خصوصیت بیان فرماتا ہے بلکہ باقی انبیاء کے ساتھ ان کا بھی ذکر کر دیتا ہے۔اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کو تو چالیس برس کے قریب حَتَّى إِذَا بَلَغَ اشده (الاحقاف:۱۲) کے ماتحت نبوت عطا ہوئی تھی۔حضرت عیسی علیہ السلام بھی اس میں شامل ہیں۔چنانچہ انجیل سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے اس برس کی عمر میں منادی شروع کی۔جب یسوع خود تعلیم دینے لگا تو برس تھیں ایک کا تھا۔“ (لوقا باب ۳/۲۳) دلیل نمبر ۵ از روئے قرآن عیاں ہے کہ جس وقت مسیح کے دشمنوں نے آپ کو پکڑنا چاہا تو آسمان سے فرشتے نازل ہوئے اور اسے آسمان پر اٹھا لے گئے لیکن حضرت محمد صاحب کو بچانے کے لئے کوئی فرشتہ نازل نہیں ہوا؟