فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 52
ایام الصلح 52 فلسطین سے کشمیر تک کے وقت میں ہی اس کی ضرورت تھی کیونکہ بنی اسرائیل طرح طرح کے گناہوں میں غرق تھے۔یہاں تک کہ بُت پرستی کر کے گناہوں کی معافی کے محتاج تھے۔پس یہ کس قدر غیر معقول بات ہے کہ گناہ تو اُسی وقت بکثرت ہوں یہاں تک کہ گوسالہ پرستی تک نوبت پہنچی اور گناہوں سے نجات دینے والا چودہ ۱۴۰۰ سو برس بعد آوے جبکہ کروڑہا انسان ان ہی گناہوں کی وجہ سے داخل جہنم ہو چکے ہوں۔ایسے ضیعف اور بودے خیال کو کون قبول کر سکتا ہے اور اس کے مقابل پر یہ کس قد رصاف بات ہے کہ اس منجی سے مراد بلا ؤں سے نجات دینے والا تھا اور وہ درحقیقت ایسے وقت میں آیا کہ جب کہ یہودیوں پر چاروں طرف سے بلا ئیں محیط ہوگئی تھیں۔کئی دفعہ غیر قوموں کے بادشاہ ان کو گرفتار کر کے لے گئے۔کئی دفعہ غلام بنائے گئے اور دو دفعہ ان کی ہیکل مسمار کی گئی۔ہمارے معنوں کے رُو سے زمانہ ثبوت دیتا ہے کہ در حقیقت بلاؤں سے نجات دینے والا ایسے وقت آنا چاہیئے تھا جس وقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے۔مگر اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ یسوع جو ہیرو دوس کے زمانہ میں پیدا ہوا وہی زمانہ گناہوں کے منجی کے بھیجنے کا زمانہ تھا۔تا گناہوں سے نجات بخشے۔غرض روحانی منجی ہونا ایسی بات ہے کہ محض تکلف اور بناوٹ سے بنائی گئی ہے۔یہودی جس حالت کے لئے اب تک روتے ہیں وہ یہی ہے کہ کوئی ایسا منجی پیدا ہو جو اُن کو دوسری حکومتوں سے آزادی بخشے۔کبھی کسی یہودی کے خواب میں بھی نہیں آیا کہ روحانی منجی آئے گا اور نہ توریت کا یہ منشا ہے۔توریت تو صاف کہہ رہی ہے کہ آخری دنوں میں پھر بنی اسرائیل پر مصیبتیں پڑیں گی اور اُن کی حکومت اور آزادی جاتی رہے گی پھر ایک نبی کی معرفت خدا اس حکومت اور آزادی کو دوبارہ بحال کرے گا۔سو یہ پیشگوئی بڑے زور وشور اور وضاحت کے ساتھ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل سے پوری ہوگئی کیونکہ جب یہود لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تو اسی زمانہ میں حکومت اور امارت اور آزادی اُن کو مل گئی اور پھر کچھ دنوں کے بعد وہ لوگ بہ برکت قبول اسلام روئے زمین کے بادشاہ ہو گئے اور وہ شوکت اور حکومت اور امارت اور بادشاہت ان کو حاصل ہوئی جو حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے بھی حاصل نہیں ہوئی تھی۔تاریخ سے ثابت ہے کہ