فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 51
ایام الصلح 51 فلسطین سے کشمیر تک سلطنت سے بکمال وضاحت پوری ہو گئی۔یہ پیشگوئی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ خدا نے یہ مقدر کیا ہے کہ موسیٰ کی طرح دنیا میں ایک اور نبی آئے گا۔یعنی ایسے وقت میں جب کہ پھر بنی اسرائیل فرعون کے زمانہ کی مانند طرح طرح کی ذلتوں اور دکھوں میں ہوں گے اور وہ نبی ان کو جو اس پر ایمان لائیں گے اُن دُکھوں اور بلاؤں سے نجات دے گا۔اور جس طرح موسیٰ پر ایمان لانے سے بنی اسرائیل نے نہ صرف دکھوں سے نجات پائی بلکہ ان میں سے بادشاہ بھی ہو گئے ایسا ہی ان اسرائیلیوں کا انجام ہو گا جو اس نبی پر ایمان لائیں گے یعنی آخر ان کو بھی بادشاہی ملے گی اور ملکوں کے حکمران ہو جائیں گے۔اسی پیشگوئی کو عیسائیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام پر لگانا چاہا تھا جس میں وہ ناکام رہے کیونکہ وہ لوگ اس مماثلت کا کچھ ثبوت نہ دے سکے۔اور یہ تو ان کے دل کا ایک خیالی پلاؤ ہے کہ یسوع نے گناہوں سے نجات دی۔کیا یورپ کے لوگ جو عیسائی ہو گئے ہر ایک قسم کی بدکاری اور زنا کاری اور شراب خوری سے سخت متنفر اور موحدانہ زندگی بسر کرتے ہیں؟ ہم نے تو یورپ دیکھا نہیں۔جنہوں نے دیکھا ہے اُن سے پوچھنا چاہئیے کہ یورپ کی کیا حالت ہے؟ ہم نے تو یہ سُنا ہے کہ علاوہ اور باتوں کے ایک لندن میں ہی شراب خواری کی یہ کثرت ہے کہ اگر شراب کی دوکانیں سیدھے خط میں لگائی جائیں تو تخمیناستر میل تک اُن کا طول ہو سکتا ہے۔اب دیکھنا چاہئیے کہ اول تو گنا ہوں سے نجات پانا ایک ایسا امر ہے جو آنکھوں سے چھپا ہوا ہے کون کسی کے اندرونی حالات اور خطرات کے بجز خدا تعالیٰ کے واقف ہو سکتا ہے۔پھر یورپ جو عیسائیوں کے لئے عیسائیت کی زندگی کا ایک کھلا کھلا نمونہ ہے جو کچھ ظاہر کر رہا ہے اس کے بیان کی حاجت نہیں۔ہم محض اس قوم کی معصومانہ زندگی قبول کر سکتے ہیں جس کے بعض افراد معصومانہ زندگی کے نشان اپنے ساتھ رکھتے ہوں اور راستبازوں کے برکات اُن میں پائے جاتے ہوں۔سو یہ قوم تو اسلام ہے جس کی راستبازی کے انوار کسی زمانہ میں کم نہیں ہوئے۔ورنہ صرف دعوئی دلیل کا کام نہیں دے سکتا ماسوا اس کے یہ دعویٰ کہ گناہوں کا منجی کسی دوسرے زمانہ میں آنے والا تھا اس وجہ سے بھی نا معقول ہے کہ اگر ایسا منجی بھیجنا منظور تھا تو موسیٰ