فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 53

امام الصلح 53 فلسطین سے کشمیر تک افغانوں کا عروج جو بنی اسرائیل ہیں شہاب الدین غوری کے وقت سے شروع ہوا۔اور جب بہلول لودی افغان تخت نشین ہوا تب ہندوستان میں عام طور پر افغانوں کی امارت اور حکومت کی بنیاد پڑی۔اور یہ افغان بادشاہ یعنی بہلول بہت حریص تھا کہ ہندوستان میں افغانوں کی حکومت اور امارت پھیلا دے اور ان کو صاحب املاک اور جا گیر کرے اس لئے اس نے اپنی سلطنت میں جوق جوق افغان طلب کر کے ان کو عہدے اور حکومت اور بڑے بڑے املاک عطا کئے اور جب تک کہ ہندوستان کی سلطنت بہلول اور شیر شاہ افغان سوری کے خاندان میں رہی تب تک افغانوں کی آبادی اور اُن کی دولت اور طاقت بڑی ترقی میں رہی یہاں تک کہ یہ لوگ امارت اور حکومت میں اعلیٰ درجہ تک پہنچ گئے۔افغانوں کی سلطنت اور اقبال اور دولت کے تصور کے وقت احمد شاہ ابدالی ست وزئی کے اقبال پر بھی ایک نظر ڈالنی چاہئیے۔جو افغانوں میں سے ایک زبر دست بادشاہ ہوا ہے اور پھر تیمورشاہ سد وزئی اور شاہ زمان اور شجاع الملک اور شاہ محمود اور امیر دوست محمد خان اور امیر شیر علی خان ہوئے۔اور اب بھی والی ملک کا بل افغان ہے۔جو اس ملک کا بادشاہ کہلاتا ہے یعنی امیر عبدالرحمن۔ان تمام واقعات سے ثابت ہے کہ بنی اسرائیل کو جو دوبارہ آزادی اور شوکت اور سلطنت کا وعدہ دیا گیا تھا وہ اُن کے مسلمان ہونے کے بعد آخر پورا ہو گیا۔اس سے توریت کی سچائی پر ایک قوی دلیل پیدا ہوتی ہے کہ کیونکر توربیت کے وہ تمام وعدے بڑی قوت اور شان کے ساتھ انجام کار پورے ہو گئے اور اس جگہ سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ وہ نبی جو بنی اسرائیل کی دوبارہ مصیبتوں کے وقت منجی ٹھہرایا گیا تھا وہ سید نا محمد مصطفے می ہیں۔ہاں جس طرح پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے صرف راہ میں بنی اسرائیل کو چھوڑ کر وفات پائی اور قوم اسرائیل کو اُن کے بعد سلطنت ملی اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جیسے جیسے بنی اسرائیل اسلام میں داخل ہوتے گئے حکومت اور امارت اُن کو ملتی گئی یہاں تک کہ آخر کار دُنیا کے بڑے بڑے حصوں کے بادشاہ ہو گئے۔منہ ایام اصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 297 تا 303 حاشیہ )