فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 43
الغطاء 43 فلسطین سے کشمیر تک یہ امر یقینی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور انہوں نے خود یونس نبی کے مچھلی کے قصہ کو اپنے قصہ سے جو تین دن قبر میں رہنا تھا مشابہت دے کر ہر ایک دانا کو یہ سمجھا دیا ہے کہ وہ یونس نبی کی طرح قبر میں زندہ ہونے کی حالت میں داخل کئے گئے اور جب تک قبر میں رہے زندہ رہے۔ورنہ مردوں کو زندوں سے کیا مشابہت ہو سکتی ہے اور ضرور ہے کہ نبی کی مثال بے ہودہ اور بے معنی نہ ہو انجیل میں ایک دوسری جگہ بھی اسی امر کی طرف اشارہ ہے جہاں لکھا ہے کہ زندہ کو مردوں میں کیوں ڈھونڈتے ہو۔بعض حواریوں کا یہ خیال کہ حضرت عیسی صلیب پر فوت ہو گئے تھے ہر گز صحیح نہیں ہے کیونکہ آپ کا قبر سے نکلنا اور حواریوں کو اپنے زخم دکھلانا اور یونس نبی سے اپنی مشابہت فرمانا یہ سب باتیں اس خیال کو ر ڈ کرتی ہیں اور اس کے مخالف ہیں۔پھر حواریوں میں اس مقام میں اختلاف بھی ہے چنانچہ برنباس کی انجیل میں جس کو میں نے بچشم خود دیکھا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر فوت ہونے سے انکار کیا گیا ہے اور انجیل سے ظاہر ہے کہ برنباس بھی ایک بزرگ حواری تھا اور آپ کا آسمان پر جانا ایک روحانی امر ہے۔آسمان پر وہی چیز جاتی ہے جو آسمان سے آتی ہے اور جو زمین کا ہے وہ زمین میں جاتا ہے۔توریت اور قرآن نے بھی یہی گواہی دی ہے اور جب کہ یہودی صلیبی کارروائی کی وجہ سے حضرت مسیح کے روحانی رفع سے منکر تھے اس لئے ان کو جتایا گیا کہ حضرت مسیح آسمان پر گئے یعنی خدا تعالیٰ نے نجات دے کر لعنت سے جو نتیجہ صلیب تھا ان کو بری کر لیا اور ان چند حواریوں کی گواہی کیونکر لائق قبول ہوسکتی ہے جو واقعہ صلیب کے وقت حاضر نہ رہے اور جن کے پاس شہادت رویت نہیں ہے۔منہ (کشف الغطاء۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 210 تا 211 حاشیہ) ایک اور دلیل ہمارے اس دعوئی پر یہ ہے کہ جس قدر حال تک کتابیں یوز آسف کی سوان اور تعلیم کے متعلق ہم کوملی ہیں جس کی قبر سرینگر میں ہے وہ تمام تعلیم انجیل کی اخلاقی تعلیم سے بشدت مشابہت رکھتی ہے بلکہ بعض فقرات تو بعینہ انجیل کے فقرات ہیں۔منہ ( کشف الغطاء۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 212 حاشیہ)