فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 42
كشف الغطاء 42 فلسطین سے کشمیر تک اور پھر سب سے اخیر شاہزادہ نبی کی قبر جوسری نگر محلہ خان یار میں ہے جس کو عوام شہزادہ یوز آسف نبی کی قبر اور بعض عیسی صاحب نبی کی قبر کہتے ہیں اس مطلب کی مؤید ہے اور اس قبر میں ایک کھڑ کی بھی ہے جو بر خلاف دنیا کی تمام قبروں کے اب تک موجود ہے۔کشمیر کے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس قبر کے ساتھ کوئی خزانہ بھی مدفون ہے اس لئے کھڑکی ہے میں کہتا ہوں شاید کچھ جواہرات ہوں مگر میری دانست میں یہ کھڑ کی اس لئے رکھی ہے کہ کوئی عظیم الشان کتبہ اس قبر کے اندر ہے یہ اسی طرح کا واقعہ معلوم ہوتا ہے جیسا کہ انہی دنوں میں ضلع پیرا کوئی میں جو ممالک شمال مغرب کے ضلع سرحد نیپال میں ایک گاؤں ہے ایک ٹیلہ کے اندر سے ایک بھاری صندوق نکلا ہے جس میں جواہرات اور زیور اور کچھ ہڈی اور راکھ تھی اور صندوق پر یہ کندہ تھا کہ گوتم بدھ سا کی منی کے پھول ہیں۔اور نبی کا لفظ جو اس صاحب قبر کی نسبت کشمیر کے ہزار ہا لوگوں کی زبان پر جاری ہے یہ بھی ہمارے مدعا کے لئے ایک دلیل ہے کیونکہ نبی کا لفظ عبری اور عربی دونوں زبانوں میں مشترک ہے دوسری کسی زبان میں یہ لفظ نہیں آیا اور اسلام کا اعتقاد ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کبھی نبی نہیں آئے گا اس لئے متعین ہوا کہ یہ عبرانی نبیوں میں سے ایک نبی ہے اور پھر شاہزادہ کے لفظ پر غور کر کے اور بھی ہم اصل حقیقت سے نزدیک آجاتے ہیں۔اور پھر کشمیر کے تمام باشندوں کا اس بات پر اتفاق دیکھ کر کہ یہ نبی جس کی کشمیر میں قبر ہے ہمارے نبی صل اللہ علیہ وسلم سے چھ سو برس پہلے گزرا ہے۔صاف طور پر حضرت عیسی علیہ السلام کو متعین کر رہا ہے اور صفائی سے یہ فیصلہ ہو جاتا ہے کہ یہی وہ پاک اور معصوم نبی اور خدا تعالیٰ کے جلال کے تخت سے ابدی شہزادہ ہے جس کو نالائق اور بدقسمت یہودیوں نے صلیب کے ذریعہ سے مارنا چاہا تھا۔غرض یہ ایسا ثبوت ہے کہ اگر اس کے تمام دلائل یکجائی نظر سے دیکھے جائیں تو ہماری قوم کے غلط کار مولویوں کے خیالات اس سے پاش پاش ہو جاتے ہیں اور امن اور صلح کاری کی مبارک عمارت اپنی چمک دکھلاتی ہے جس سے ضروری طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نہ کوئی آسمان پر گیا اور نہ وہ لڑنے کے لئے مہدی کے ساتھ شامل ہوکر شور قیامت ڈالے گا بلکہ وہ کشمیر میں اپنے خدا کی رحمت کی گود میں سو گیا۔( کشف الغطاء۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 208 تا 213)