فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 44

ایام الصلح 44 یام اصلح ( جنوری 1899 ء ) فلسطین سے کشمیر تک اس تمام تقریر سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات حیات کی بحث میں حق میری طرف ہے۔پھر اس ثبوت کے ساتھ اور بہت سے دلائل ہیں کہ اس مسئلہ موت مسیح کو حق الیقین تک پہنچاتے ہیں جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ ۱۲۰ حضرت عیسی علیہ السلام نے ایک سو بیس برس کی عمر پائی۔اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا آیت قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اور اللہ جل شانہ کا قرآن شریف میں فرمانا فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيْهَا تَمُوتُونَ کے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کرہ زمین کے سوا دوسری جگہ نہ زندگی بسر کر سکتا ہے اور نہ مرسکتا ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کا نام مسیح یعنی نبی سیاح ہونا بھی اُن کی موت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ سیاحت زمین تقاضا کرتی ہے کہ وہ صلیب سے نجات پا کر زمین پر ہی رہے ہوں۔ورنہ بجز اس زمانہ کے جو صلیب سے نجات پاکر ملکوں کا سیر کیا ہو اور کوئی زمانہ سیاحت ثابت نہیں ہوسکتا صلیب کے زمانہ تک نبوت کا زمانہ صرف ساڑھے تین برس تھے۔یہ زمانہ تبلیغ کے لئے بھی تھوڑا تھا چہ جائیکہ اس میں تمام ملک کی سیاحت کرتے۔ایسا ہی مرہم عیسی جو قریب طب کی ہزار کتاب میں لکھی ہے ثابت کرتی ہے کہ صلیب کے واقعہ کے وقت حضرت عیسی آسمان پر نہیں اٹھائے گئے بلکہ اپنے زخموں کا اس مرہم کے ساتھ علاج کراتے رہے۔اس کا نتیجہ بھی یہی نکلا کہ زمین پر ہی رہے اور زمین پر ہی فوت ہوئے۔ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحه 272 تا 273) ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں کیونکہ حضرت موسیٰ نے یہودیوں کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دی اور نہ صرف نجات بلکہ ایمان لانے کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ یہودی قوم کو سلطنت اور بادشاہی بھی مل گئی۔اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں آئے کہ جب یہودی لوگ سخت ذلت میں پڑے ہوئے تھے۔اور آپ نے جیسا کہ دوسرے ایمان لانے والوں پر آزادی اور نجات کا دروازہ کھولا اور کفار کے ظلم آل عمران: 145 الاعراف : 26