فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 36
راز حقیقت 36 فلسطین سے کشمیر تک وہ نبی جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سو برس پہلے گذرا ہے وہ حضرت عیسی علیہ السلام ہیں اور کوئی نہیں۔اور یسوع کے لفظ کی صورت بگڑ کر یوز آسف بننا نہایت قرین قیاس ہے کیونکہ جب کہ یسوع کے لفظ کو انگریزی میں بھی چیز س بنا لیا ہے تو یوز آسف میں جیزس سے کچھ زیادہ تغیر نہیں ہے۔یہ لفظ سنسکرت سے ہرگز مناسبت نہیں رکھتا۔صریح عبرانی معلوم ہوتا ہے اور یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام اس ملک میں کیوں تشریف لائے اس کا سبب ظاہر ہے۔اور وہ یہ ہے کہ جبکہ ملک شام کے یہودیوں نے آپ کی تبلیغ کو قبول نہ کیا اور آپ کو صلیب پر قتل کرنا چاہا تو خدا تعالیٰ نے اپنے وعدے کے موافق اور نیز دعا کو قبول کر کے حضرت مسیح کو صلیب سے نجات دے دی۔اور جیسا کہ انجیل میں لکھا ہے حضرت مسیح کے دل میں تھا کہ اُن یہودیوں کو بھی خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیں کہ جو بخت النصر کی غارت گری کے زمانہ میں ہندوستان کے ملکوں میں آگئے تھے۔سواسی غرض کی تکمیل کے لئے وہ اس ملک میں تشریف لائے۔ڈاکٹر بر نیر صاحب فرانسیسی اپنے سفر نامہ میں لکھتے ہیں کہ کئی انگریز محققوں نے اس رائے کو بڑے زور کے ساتھ ظاہر کیا ہے کہ کشمیر کے مسلمان باشندے دراصل اسرائیلی ہیں جو تفرقہ کے وقتوں میں اس ملک میں آئے تھے۔اور اُن کے کتابی چہرے اور لمبے گرتے اور بعض رسوم اس بات کے گواہ ہیں۔پس نہایت قرین قیاس ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام شام کے یہودیوں سے نومید ہو کر اس ملک میں تبلیغ قوم کے لئے آئے ہوں گے۔حال میں جو روی سیاح نے ایک انجیل لکھی ہے جس کولندن سے میں نے منگوایا ہے وہ بھی اس رائے میں ہم سے متفق ہے کہ ضرور حضرت عیسی علیہ السلام اس ملک میں آئے تھے اور جو بعض مصنفوں نے واقعات یوز آسف نبی کے لکھے ہیں جن کے یورپ کے ملکوں میں بھی ترجے پھیل گئے ہیں ان کو پادری لوگ بھی پڑھ کر سخت حیران ہیں کیونکہ وہ تعلیمیں انجیل کی اخلاقی تعلیم سے بہت ملتی ہیں بلکہ اکثر عبارتوں میں توارد معلوم ہوتا ہے۔اور ایسا ہی تبتی انجیل کا انجیل کی اخلاقی تعلیم سے بہت توارد ہے۔پس یہ ثبوت ایسے نہیں ہیں کہ کوئی شخص معاندانہ تحکم سے یکدفعہ ان کو ر ڈ کر سکے بلکہ ان میں سچائی کی روشنی نہایت صاف پائی جاتی