فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 37

راز حقیقت 37 فلسطین سے کشمیر تک ہے اور اس قدر قرائن ہیں کہ یکجائی طور پر ان کو دیکھنا اس نتیجہ تک پہنچاتا ہے کہ یہ بے بنیاد قصہ نہیں ہے، یوز آسف کا نام عبرانی سے مشابہ ہونا اور یوز آسف کا نام نبی مشہور ہونا جو ایسا لفظ ہے کہ صرف اسرائیلی اور اسلامی انبیاء پر بولا گیا ہے اور پھر اُس نبی کے ساتھ شہزادہ کا لفظ ہونا اور پھر اس نبی کی صفات حضرت مسیح علیہ السلام سے بالکل مطابق ہونا اور اس کی تعلیم انجیل کی اخلاقی تعلیم سے بالکل ہمرنگ ہونا اور پھر مسلمانوں کے محلہ میں اس کا مدفون ہونا اور پھر انیس سو سال تک اس کے مزار کی مدت بیان کئے جانا اور پھر اس زمانہ میں ایک انگریز کے ذریعہ سے تبتی انجیل برآمد ہونا اور اس انجیل سے صریح طور پر حضرت عیسی علیہ السلام کا اس ملک میں آنا ثابت ہونا یہ تمام ایسے امور ہیں کہ ان کو یکجائی طور پر دیکھنے سے ضرور یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بلا شبہ حضرت عیسی علیہ السلام اس ملک میں آئے تھے اور اسی جگہ فوت ہوئے اور اس کے سوا اور بھی بہت سے دلائل ہیں کہ ہم انشاء اللہ ایک مستقل رسالہ میں لکھیں گے۔من المشتهر راز حقیقت۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 167 تا 170 حاشیہ) نبی کا لفظ صرف دوزبانوں سے مخصوص ہے اور دنیا کی کسی اور زبان میں یہ لفظ مستعمل نہیں ہوا یعنی ایک تو عبرانی میں یہ لفظ نبی آتا ہے اور دوسری عربی میں۔اس کے سوا تمام دنیا کی اور زبانیں اس لفظ سے کچھ تعلق نہیں رکھتیں۔لہذا یہ لفظ جو یوز آسف پر بولا گیا کتبہ کی طرح گواہی دیتا ہے کہ یہ شخص یا اسرائیلی نبی ہے یا اسلامی نبی مگرختم نبوت کے بعد اسلام میں کوئی اور نبی نہیں آسکتا لہذا متعین ہوا کہ یہ اسرائیلی نبی ہے۔اب جو مدت بتلائی گئی ہے اُس پر غور کر کے قطعی فیصلہ ہو جاتا ہے کہ یہ حضرت عیسی علیہ السلام ہیں اور وہی شہزادہ کے نام سے پکارے گئے ہیں۔منہ راز حقیقت۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 168 نوٹ ) یہ ضرور نہیں کہ سلیمان سے مراد سلیمان پیغمبر ہوں بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اسرائیلی امیر ہوگا جس کے نام سے یہ پہاڑ مشہور ہو گیا۔اس امیر کا نام سلیمان ہوگا۔یہ یہودیوں کی اب تک عادت ہے کہ نبیوں کے نام پر اب تک نام رکھ لیتے ہیں۔بہر حال اس نام سے